بجلی صارفین 877 ارب روپے کے ڈیفالٹرز ہیں

0

پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی کے ڈیفالٹر صارفین سے 877 ارب روپے سے زائد کی ریکوری نہ کئے جانے کا انکشاف۔۔۔ بلوچستان کے بجلی صارفین کے ذمے 600 ارب روپ کے واجبات۔۔ ۔27 ہزار ٹیوب ویل کنکشن ڈیفالٹر ہونے کا انکشاف۔۔۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا پاور ڈویژن کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار

جنید اکبر خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔۔ پاور ڈویژن کی سال 24-2023 کی آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔۔۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ حکومتی ڈسکوز 877 ارب روپے سے زائد کے واجبات ریکور کرنے میں ناکام رہی ہیں ۔۔سیکریٹری پاور نے بتایا کہ ڈیفالٹرز سے 162 ارب روپے ریکور کر لئے ہیں بقایا وصولی کیلئے کام کیا جا رہا ہے

سینیٹر افنان اللّٰہ خان نے کہا کہ نان ریکوری کے سب سے ذیادہ کیسز کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ہیں۔۔۔ کیسکو 603 ارب روپے کی ڈیفالٹر ہے۔۔ رکن کمیٹی خالد مگسی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے ابھی واجبات کی وصولی نہیں ہو سکتی

سینیٹر شبلی فراز نے کہا واجبات کے حساب سے ہمیں 300 بڑے رننگ ڈیفالٹرز کی فہرست دی جائے ۔۔۔سینیٹر افنان اللّٰہ نے کہا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے بڑے تین سو ڈیفالٹرز کی فہرست طلب کر لی۔

پی اے سی اجلاس میں حکومت بلوچستان کا بھی ڈیفالٹر ہونے کا انکشاف ہوا۔ رکن کمیٹی شیر ارباب بولے پاور سیکٹر کی ناکامی خالصتاً گورننسس کی ناکامی ہے۔۔۔

سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا واجبات کی ریکوری کی پراگریس خود مانیٹر کروں گا۔ چیئرمین کمیٹی نے آڈیٹر جنرل کو کل تک 162 ارب کی ریکوری کی تصدیق کی ہدایت کر دی۔

چیئرمین پی اے سی نے کہا جس علاقے میں ریکوری نہ ہو وہاں کی تقسیم کار کمپنی کے سی ای او کی مراعات ختم کی جائیں۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے دو سال سے صفر ریکوری کرنے والے ڈسکوز کے سی ای او ز کو طلب کر لیا۔

کمیٹی اراکین نے حکومت اور ڈسکوز کی جانب سے ریکوری کے طریقہ کار پر بھی شدید اعتراضات اٹھائے۔ سید حسین طارق نے کہا حیسکو کی ریکوری کے لئے رینجرز کا استعمال کیا جا رہا ہے، یہ حل نہیں ہے

سیکریٹری پاور ڈویژن نے ماہانہ ریونیو اور رپورٹ جمع کرانے کی یقین دھانی کروائی پی اے سی نے حیسکو ملازمین کی جانب سے ڈیڑھ ارب روہے کی کرپشن میں ملوث افسران کو معطل نہ کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور فوری طور پر انکو معطل کرنے کی ہدایات دیں

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.