مراکش نے شہریوں سے اپیل کی کہ شدید خشک سالی کے دوران عید الاضحی پر بھیڑ ذبح کرنے سے گریز کریں
مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے ملک میں جاری شدید خشک سالی کے پیش نظر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سال عید الاضحی پر روایتی قربانی سے اجتناب کریں۔ ملک کو طویل مدتی موسمی بحران اور مویشیوں کی قلت کا سامنا ہے، جس کے باعث غذائی تحفظ اور اقتصادی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
خشک سالی کے اثرات اور حکومت کی تشویش
- گزشتہ نو سال میں مراکش کے مویشیوں کی تعداد میں 38 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
- چراگاہوں کی قلت اور مویشیوں کی اموات کی شرح میں اضافے سے گوشت کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، جس سے شہریوں کو مزید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
بادشاہ محمد ششم کا بیان
سرکاری ٹی وی ال اولا پر مذہبی امور کے وزیر احمد توفیق نے بادشاہ کا پیغام پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا کہ "ہماری قوم کو درپیش ماحولیاتی اور اقتصادی چیلنجوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ مویشیوں کی تعداد میں شدید کمی کی روشنی میں یہ عارضی اقدام ناگزیر ہے۔”
عید الاضحی کی روایات اور عوامی ردعمل
- عید الاضحی جون 2025 میں منائی جائے گی، جس میں عام طور پر بھیڑ، بکری یا گائے کی قربانی کی جاتی ہے۔
- بادشاہ کی اپیل مذہبی رسم و رواج کو ماحولیاتی اور اقتصادی حالات سے ہم آہنگ کرنے کی ایک نادر مثال ہے۔
- مراکشی حکومت متبادل طریقے تجویز کرنے اور عوام کو اس بحران کے دوران رہنمائی فراہم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرے گی۔
یہ اقدام مذہبی رہنماؤں اور حکام کی جانب سے اسلام میں لچک اور ہمدردی کے اصولوں کے تحت کیا جا رہا ہے، تاکہ خشک سالی کے اثرات سے نمٹنے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔