یورپی یونین کے رہنماؤں کا یوکرین کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ، ٹرمپ سے کشیدگی کے بعد زیلنسکی کو یقین دہانی

0

یورپی یونین کے اعلیٰ رہنماؤں نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ یہ یقین دہانی اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان ایک کشیدہ ملاقات ہوئی، جس میں ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ یوکرین امن کے لیے تیار نہیں۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے ایک مشترکہ بیان میں کہا، "یوکرین کے عوام کے ساتھ ہمارا عزم پختہ ہے۔ مضبوط بنیں، بہادر بنیں، نڈر بنیں۔ آپ کبھی بھی اکیلے نہیں ہوں گے۔” اس بیان میں یورپی یونین کی جانب سے یوکرین کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان ایک ملاقات میں شدید تناؤ دیکھنے میں آیا۔ اطلاعات کے مطابق، امریکی صدر نے یوکرین پر زور دیا کہ وہ روس کے ساتھ مذاکرات کرے اور تنازع کو ختم کرنے کے لیے "مزید سنجیدگی” کا مظاہرہ کرے۔ زیلنسکی کے سخت ردعمل کے بعد یہ معاملہ بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں زیر بحث آ گیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "آزاد دنیا کو نئی قیادت کی ضرورت ہے۔” ان کے اس بیان کو واشنگٹن کی بدلتی ہوئی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس نے یورپی رہنماؤں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

دوسری جانب، یورپی یونین نے یوکرین کے ساتھ اپنی اقتصادی اور عسکری امداد برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ بلاک کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ "منصفانہ اور دیرپا امن” کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، چاہے واشنگٹن کا رویہ کچھ بھی ہو۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یورپی یونین کی طرف سے یہ تازہ حمایت یوکرین کے لیے نہایت اہم ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ کی پالیسی میں ممکنہ تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس تنازعے کے سفارتی اور جغرافیائی اثرات مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، اور مستقبل میں یورپ اور امریکہ کے تعلقات پر بھی اس کا نمایاں اثر پڑ سکتا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.