زیلنسکی کا دوٹوک مؤقف: "امن کی ضمانتوں کے بغیر معافی نہیں”
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے معافی کے مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس کا مطالبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی کشیدہ ملاقات کے بعد کیا گیا تھا۔
"میں نے کوئی غلطی نہیں کی جس پر معافی مانگوں،” زیلنسکی نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا۔ "میں امریکی صدر اور عوام کا احترام کرتا ہوں، لیکن یوکرین کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم حمایت کے شکر گزار ہیں، لیکن ہمیں امن ایسی شرائط پر چاہیے جو ہمارے ملک کی سالمیت کو یقینی بنائیں۔”
زیلنسکی نے یوکرین اور امریکہ کے تعلقات کو ایک "مضبوط اور تاریخی شراکت داری” قرار دیا، جو کسی ایک صدر کی پالیسی سے مشروط نہیں۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ واشنگٹن کو روس کے ساتھ امن معاہدے میں "زیادہ تعمیری کردار” ادا کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ کے ساتھ معدنیات کے تجارتی معاہدے پر دستخط کے لیے تیار ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یوکرین کو طویل مدتی سیکیورٹی ضمانتیں بھی دی جانی چاہئیں۔
"امن صرف اسی وقت ممکن ہوگا جب ہمیں مستقبل کی جارحیت کے خلاف ٹھوس یقین دہانی حاصل ہو،” زیلنسکی نے کہا۔
زیلنسکی کا واضح پیغام
وائٹ ہاؤس کی ملاقات کے بعد زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر پیغام جاری کیا کہ "آپ کا شکریہ، جناب صدر، کانگریس، اور امریکی عوام۔ ہم مل کر آزادی کا دفاع کریں گے۔”