اسرائیل کی امریکی فارمولے کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی حمایت، حماس پر انکار کا الزام

اسرائیل نے امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی میں توسیع کے منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے، تاہم حماس پر اس معاہدے کو مسترد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد خدشہ ہے کہ غزہ میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہو سکتی ہیں۔

جنگ بندی میں توسیع پر اسرائیل کا مؤقف

اتوار کے روز اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ وہ امریکی ثالثی کے ذریعے فائر بندی کو مزید طول دینے پر رضامند ہو گئے تھے، لیکن ان کے بقول حماس کی عدم تعاون کی پالیسی کے باعث یہ عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔

وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے انسانی امداد کی ترسیل روکنے کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا: کہ"ہم نہیں چاہتے کہ انسانی امداد دہشت گردی کے لیے استعمال ہو۔ حماس ان وسائل کو اپنے عسکری نیٹ ورک کے لیے استعمال کر رہی ہے۔”

امریکی اور اسرائیلی حکام کی اعلیٰ سطحی میٹنگ

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، امدادی ترسیل روکنے کا فیصلہ امریکی حکام اور اسرائیلی سیکیورٹی اداروں کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ اس فیصلے کے باوجود بین الاقوامی برادری اسرائیل پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ انسانی بحران سے بچنے کے لیے امداد کی ترسیل بحال کرے۔

حماس پر جنگ بندی کے مذاکرات میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام

اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس نے فائر بندی میں توسیع کے بجائے مکمل جنگ بندی اور اضافی شرائط پر زور دیا ہے، جسے اسرائیل ناقابل قبول قرار دیتا ہے۔

ایک اسرائیلی عہدیدار نے مقامی میڈیا کو بتایا: کہ"جنگ بندی میں توسیع ممکن تھی، لیکن حماس کے انکار نے حالات خراب کر دیے۔ اگر وہ تعاون نہیں کرتے، تو ہم فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کریں گے۔”

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے