عرب رہنماؤں نے مصر کے پیش کردہ 53 بلین ڈالر کے غزہ تعمیر نو منصوبے کی حمایت کر دی، جبکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطینیوں کی نقل مکانی اور خطے کو سیاحتی مقام بنانے کی متنازعہ تجویز کو مسترد کر دیا۔
عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس: اہم نکات
2030 تک غزہ کی مکمل بحالی، بغیر کسی بے دخلی کے۔
50 ملین ٹن ملبہ ہٹایا جائے گا، جو اسرائیلی بمباری سے بچا ہے۔
جدید اور پائیدار رہائشی اسکیمیں، سبز توانائی کے ساتھ۔
نئی بندرگاہیں اور ہوائی اڈے، ماہی گیری اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے۔
زرعی اور صنعتی زونز کا قیام تاکہ غزہ کو خود کفیل بنایا جا سکے۔
مصر کے منصوبے پر ردعمل
عرب ممالک کی وسیع حمایت، خاص طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور الجزائر کا تعاون۔
اسرائیل کی مخالفت، جو اسے حماس کے لیے فائدہ مند قرار دے رہا ہے۔
حماس کی حمایت، تنظیم نے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کو روکنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے منتقلی کی نگرانی پر آمادگی۔
ٹرمپ کا متنازعہ "نئے غزہ” کا منصوبہ
ٹرمپ کی ٹیم کی تجویز کے مطابق، غزہ کے باشندوں کو مصر، اردن اور دیگر عرب ممالک میں بسایا جائے۔
خطے کو ایک سیاحتی اور تجارتی مرکز میں بدلا جائے، جہاں بین الاقوامی سرمایہ کاری کی جا سکے۔
عرب لیگ اور اقوام متحدہ کی مخالفت، منصوبے کو جبری نقل مکانی قرار دیا گیا۔
عالمی ردعمل
اقوام متحدہ کا مطالبہ: فلسطینی آبادی کو تحفظ دیا جائے۔
وائٹ ہاؤس: عرب منصوبے کو تسلیم کیا، مگر حماس کے مستقبل کے کردار پر تحفظات۔
عرب لیگ: اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات کرنے کا مطالبہ۔
جیسے جیسے غزہ کا مستقبل طے ہو رہا ہے، عرب ممالک کا منصوبہ عالمی سطح پر زیادہ حمایت حاصل کر رہا ہے، جبکہ ٹرمپ کی تجویز کو سخت مخالفت کا سامنا ہے۔
