پاکستان میں ترکی کے سفیر ڈاکٹر عرفان نیزیروگلو نے معروف پاکستانی مصور واصل شاہد کی خطاطی کی خصوصی نمائش کا افتتاح کیا۔ یہ نمائش اسلامی فن کی روحانی خوبصورتی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں کی دلکش تحریر کو اجاگر کرتی ہے۔
یہ تقریب یونس ایمرے کلچرل انسٹی ٹیوٹ اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جہاں مشہور ترک خطاط ماسٹر حسن سیلبی کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اس موقع پر 24 اسلامی ممالک کے سفیر، پاکستانی اسکالرز، دانشور، اور فنونِ لطیفہ کے شائقین شریک ہوئے، جو اس تاریخی ورثے کو زندہ رکھنے کے لیے یکجا ہوئے۔
پاکستان اور ترکی کے گہرے ثقافتی تعلقات
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نیزیروگلو نے پاکستان اور ترکی کے دیرینہ ثقافتی رشتوں پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ"پاکستان اور ترکی کی فنکارانہ میراث صدیوں پر محیط ہے، جو رواداری، بھائی چارے اور امن کے پیغام کو فروغ دیتی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات دنیا کے لیے دوستی اور ثقافتی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہیں۔”
یونس ایمرے کلچرل انسٹی ٹیوٹ کے پاکستان چیپٹر کے سربراہ ڈاکٹر خلیل ٹوکر نے مشترکہ فنی روایات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کلاسیکی اسلامی خطاطی کو جدید دنیا میں زندہ رکھنا ضروری ہے تاکہ یہ بیش قیمت فن مستقبل کی نسلوں تک منتقل ہو سکے۔
خطاطی: روحانی اور ثقافتی ورثے کا تسلسل
نمائش میں واصل شاہد کی شاندار اسلامی خطاطی کے فن پارے پیش کیے گئے، جن میں قرآنی آیات اور اسمائے مبارک کو انتہائی نفاست اور عقیدت کے ساتھ تحریر کیا گیا تھا۔ یہ نمائش نہ صرف پاکستان اور ترکی کے فنی تعلقات کو مزید تقویت دیتی ہے بلکہ اسلامی خطاطی کے روحانی اور جمالیاتی پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
اس منفرد تقریب نے اسلامی فنونِ لطیفہ کے فروغ میں ایک اہم سنگِ میل قائم کیا اور اس بات کو ثابت کیا کہ پاکستان اور ترکی کا ثقافتی رشتہ تاریخ کے سنہرے باب کا تسلسل ہے۔
