مسجد اقصیٰ میں رمضان کے پہلے جمعہ کی روح پرور نماز، ہزاروں افراد کی شرکت

اسرائیل نے مسجدِ اقصیٰ میں جمعے کی نماز پر پابندی عائد کر دی

سخت سیکیورٹی اقدامات کے باوجود دسیوں ہزار مسلمان نمازیوں نے رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کی نماز کے لیے مسجد اقصیٰ کا رخ کیا، جہاں مقدس مہینے کے آغاز پر روحانی اجتماع کا شاندار منظر دیکھنے کو ملا۔

فلسطین کے مختلف شہروں سمیت بیرون ملک سے بھی زائرین اسلام کے تیسرے مقدس ترین مقام پر پہنچے۔ کئی عبادت گزار فجر سے قبل ہی اقصیٰ کے صحن میں پہنچ گئے تاکہ جلد از جلد مقام مقدس میں داخل ہو سکیں۔

اسرائیلی حکام نے القدس کے پرانے شہر میں اضافی سیکیورٹی فورسز تعینات کر دیں، جبکہ مغربی کنارے کے کئی فلسطینیوں کے لیے داخلے کی اجازت محدود کر دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق، مغربی کنارے کے رہائشیوں کو بہت کم تعداد میں اجازت نامے جاری کیے گئے، جس کی وجہ سے کئی افراد کو مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے سے روک دیا گیا۔

اقصیٰ میں روحانی ماحول اور قرآن کی تلاوت

نماز کے دوران مسجد اقصیٰ کے صحن اور ہال عبادت گزاروں سے مکمل بھر گئے۔ خطبے میں رمضان کی فضیلت، ایمان کی مضبوطی اور اتحاد پر زور دیا گیا۔ فضا قرآنی تلاوت، دعاؤں اور تکبیروں سے گونجتی رہی، جس نے مسجد اقصیٰ کو ایک روحانی مرکز میں تبدیل کر دیا۔

مسلم قیادت کا پیغام اور بین الاقوامی اپیل

مسلم رہنماؤں نے نمازیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ایمان میں استقامت اختیار کریں اور رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ تک بلا روک ٹوک رسائی کا مطالبہ جاری رکھی

ماضی میں رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ اسرائیلی فورسز اور فلسطینی نمازیوں کے درمیان کشیدگی کا شکار رہی ہے۔ عالمی مبصرین نے پرامن رمضان کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریقین سے صبر و تحمل کی اپیل کی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے