بلوچستان کے ضلع کیچ میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مقامی رہنما مفتی شاہ میر بزنجو کو نماز تراویح کے دوران فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔
مسجد میں حملہ، نمازیوں میں خوف و ہراس
یہ افسوسناک واقعہ جمعہ کی رات تربت کے علاقے ملک آباد کی ایک مسجد میں پیش آیا، جہاں مفتی شاہ میر بزنجو نماز تراویح کی ادائیگی میں مصروف تھے۔ پولیس حکام کے مطابق، نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے اس وقت فائرنگ کی جب وہ پہلی صف میں امام کے پیچھے کھڑے تھے۔فائرنگ سے امام مسجد بھی زخمی ہوئے، جبکہ نمازیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بھگدڑ مچ گئی۔
زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا
مفتی شاہ میر بزنجو کو فوری طور پر گورنمنٹ ٹیچنگ اسپتال تربت لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹرز نے ان کی شہادت کی تصدیق کر دی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق، انہیں سر اور جبڑے میں دو گولیاں لگیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔
حملہ آور فرار، تحقیقات جاری
پولیس کے مطابق، فائرنگ کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا گیا، تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
مفتی شاہ میر بزنجو: ایک معروف عالم دین
مفتی شاہ میر بزنجو تربت اور گرد و نواح میں ایک نمایاں مذہبی شخصیت تھے۔ وہ جے یو آئی تربت کے سیکریٹری جنرل کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے تھے۔یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ ان پر حملہ ہوا ہو— اس سے قبل بھی دو بار قاتلانہ حملے کیے گئے تھے جن میں وہ محفوظ رہے تھے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اپنی شہادت سے چند گھنٹے قبل ہی مفتی شاہ میر بزنجو نے خضدار میں جے یو آئی کے رہنماؤں کے قتل کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کے علماء کو ایک منظم سازش کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں جے یو آئی رہنماؤں پر حملے بڑھنے لگے
بلوچستان میں حالیہ دنوں میں جے یو آئی رہنماؤں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کچھ دن پہلے خضدار میں وڈیرہ غلام سرور موسیانی سمیت جے یو آئی کے دو رہنماؤں کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔
تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، جبکہ پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
