میانمار کی فوجی حکومت نے دسمبر 2025 یا جنوری 2026 میں عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ جنتا نے 2021 کی بغاوت میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد کسی مخصوص انتخابی شیڈول کا انکشاف کیا ہے۔
سیاسی بحران کے دوران الیکشن کا اعلان
فوجی رہنما، سینئر جنرل من آنگ ہلینگ نے اپنے بیلاروس کے دورے کے دوران اس ٹائم لائن کا انکشاف کیا، جسے سرکاری میڈیا "گلوبل نیو لائٹ آف میانمار” نے رپورٹ کیا۔
🔹 الیکشن کا اعلان ایسے وقت میں آیا ہے جب اپوزیشن گروپوں کی مسلح مزاحمت جاری ہے۔
🔹 آنگ سان سوچی کی حکومت کو ہٹانے کے بعد سے جنتا جمہوریت نواز قوتوں اور نسلی عسکری گروہوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔
🔹 فوجی حکومت نے ملک میں ہنگامی حالت میں متعدد بار توسیع کی، جس کا جواز عدم استحکام کو بنایا گیا۔
انتخابات کی شفافیت پر سوالات
ناقدین نے ان انتخابات کو "دھوکہ” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، جس کے ذریعے جنتا فوجی کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
🔸 بہت سی اپوزیشن جماعتوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
🔸 فوج کا ملک کے وسیع علاقوں پر براہ راست کنٹرول نہیں، جس سے الیکشن کے انعقاد پر شبہات ہیں۔
🔸 جنتا کے مطابق 53 سیاسی جماعتیں الیکشن میں حصہ لینے کے لیے رجسٹرڈ ہو چکی ہیں، مگر یہ واضح نہیں کہ کتنی جماعتوں کو آزادانہ طور پر الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے گی۔
الیکشن کی تیاریوں میں مشکلات
📌 ووٹنگ کے لیے ضروری مردم شماری اب تک 330 میں سے صرف 145 ٹاؤن شپ میں مکمل ہوئی ہے۔
📌 3.5 ملین سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جس سے الیکشن کی لاجسٹکس مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
📌 جاری تشدد اور فوجی کارروائیوں کے باعث انتخابات کے دوران سیکیورٹی خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اگرچہ فوجی حکومت نے انتخابات کا عندیہ دیا ہے، مگر جمہوری قوتوں کی مخالفت اور ملک میں جاری عدم استحکام کے باعث یہ انتخابات متنازعہ اور غیر شفاف ہو سکتے ہیں۔
