مشتری ہوشیار باش ۔۔۔۔ عوام کیلئے آنے والے مہینے مزید سخت ہو سکتے ہیں۔۔۔ نئے ٹیکسز عائد کئے جائیں گے۔۔۔ سرکاری ملازمین کو فارغ کیا جائے گا۔۔۔ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل دوبارہ شروع ہو گا۔۔۔
وزارت خزانہ کے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ آئندہ ہفتے پالیسی مذاکرات میں آئی ایم ایف اپنے مطالبات کی پٹاری حکومت کے سامنے کھولے گا۔۔۔۔ آئی ایم ایف کے نئے مطالبات میں نئے ٹیکسز، موجودہ ٹیکسز کی شرح میں اضافہ، سرکاری اداروں کی نجکاری اور ہزاروں سرکاری ملازمتیں ختم کرنا شامل ہیں۔۔۔
ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف مشن کے ساتھ پالیسی لیول مذاکرات میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اہم اہداف طے کیے جائیں گے
آئی ایم ایف کی طرف سے نیا ٹیکس ہدف ، اخراجات میں کمی اور نجکاری کیلئے نئی شرائط دیئے جانے کا امکان ہے
تکنیکی مذاکرات میں آئی ایم ایف نےٹیکس مراعات کے مکمل خاتمے اور ٹیکس شرح بڑھانے پر زور دیا ہے
آئندہ بجٹ کیلئے گورننس میں بہتری، رائٹ سائزنگ اور پائیدار ترقی کیلئے نئے اقدامات زیر غور ہیں۔۔۔حکومت کو رائٹ سائزنگ کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں کو ختم یا ایک دوسرے میں ضم کیا جائے گا۔۔
نئے میگا ترقیاتی منصوبوں کی بجائے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل پر کام کرنا ہوگا ۔۔۔۔ترقیاتی منصوبوں کیلئے گرین فنانسنگ کا نظام لیا جائے گا اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے والے منصوبوں کی فنانسنگ کیلئے کاربن ٹیکس عائد کرنے کی تجویز لائی جا سکتی ہے ۔۔۔ صوبوں کو بھی اخراجات کم کرنے اور رائٹ سائزنگ کے اہداف دیئے جانے کا امکان ہے
تیز تر اور شفاف نجکاری کیلئے نئی شرائط طے ہونے کا امکان ہے ۔۔۔گورننس اور احتساب کے نظام میں واضح بہتری کیلئے نئے اقدامات طے ہونے کا امکان ہے۔۔۔
آئی ایم ایف نے پی آئی اے کی نجکاری کے اہم سٹرکچرل بینچ مارک کو ہر صورت رواں مالی سال حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ہے
پالیسی لیول مذاکرات میں نئی شرائط پر اتفاق کی صورت میں وفد اعلامیہ جاری کرنے کے بعد امریکہ روانہ ہو جائے گا ۔۔جہاں وہ اپنی رپورٹ ایگزیکٹو بورڈ کو منظوری کیلئے بھجوائے گا۔۔ بورڈ کی منظوری کی صورت میں پاکستان کو قرض کی دوسری قسط اپریل میں موصول ہو جائے گی
