روئی کی گرتی پیداوار،ٹیکسٹائل برآمدات کو خطرہ،حکومتی حلقوں میں تشویش،15رکنی کمیٹی بن گئی

ملک میں کپاس کی گرتی ہوئی پیداوار میں حکومتی حلقوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔۔۔ سالانہ ایک کروڑ سے زائد کپاس کی بیلز کی پیداوار اب محض 55 لاکھ تک محدود ہو گئی۔۔۔

روئی کی پیداوار میں 50 فیصد کمی پر نہ صرف ٹیکسٹائل برآمدات کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں بلکہ حکومتی تشویش بھی بڑھ گئی ہے۔۔۔۔

رواں سیزن کپاس کی پیداوار صرف 55 لاکھ گانٹھوں تک محدود ہو گئی۔۔۔

وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو چلانے کیلئے اس سال 3 ارب ڈالر سے زائد کی کپاس درآمد کرنا پڑے گی۔۔

کپاس پیداوار بڑھانے کیلئے وفاقی حکومت کا عالمی بی ٹی کاٹن کمپنیوں سے مذاکرات کا فیصلہ۔۔۔ وزیراعظم نے کپاس کی فصل کو سہارا دینے کے لیے 15 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔۔۔ وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی کی سربراہی میں کمیٹی فصل کی بحالی کے لیے 30 دن میں تجاویز دے گی۔۔۔

پیپلز پارٹی کے حیدرآباد سے رکن قومی اسمبلی حسین طارق جاموٹ، لمز سے ڈاکٹر احسن رضا، سابق وزیر اور سابق چیئرمین پی اے آر سی کمیٹی میں شامل ہیں۔۔۔خصوصی بحالی کپاس کمیٹی کا پہلا اجلاس 13 مارچ کو بلا لیا گیا۔۔۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ وزارت غذائی تحفظ کا وفد عالمی کمپنیوں سے مذاکرات کرے گا۔۔۔۔پاکستان میں حقوق دانش کا موثر اطلاق نہ ہونے کے باعث عالمی کمپنیاں اپنے معیاری بیچ فروخت نہیں کرتیں۔۔۔عالمی کمپنیاں بی ٹی کاٹن کا بیج لانے کیلئے حکومت سے گارنٹی اور پریمیم مانگ رہی ہیں۔۔ بی ٹی کاٹن پر ایک سے دو ارب ڈالر پرمیئم مانگا جا رہا ہے۔۔ پنجاب اور سندھ حکومتوں کو بھی پرمیئم ادائیگی میں شریک ہونا پڑے گا ۔۔

2012 میں کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 40 لاکھ بیلز تھی جو کم کو کر 55 لاکھ بیلز پر آ گئی ہیں۔۔۔۔کپاس کی درآمدات سے ملکی ٹیکسٹائل سیکٹر کی عالمی مسابقت متاثر ہوئی ہے

وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی بین الاقوامی معیارات، آلودگی کے پیرامیٹرز کا جائزہ لے گی۔۔۔روئی کی گانٹھوں کی مناسب درجہ بندی اور معیاری بنانے کے لیے سفارشات تیار ہونگی۔۔ کمیٹی ملک بھر میں کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے تکنیکی تجاویز بھی پیش کرے گی۔۔۔۔

کپاس کے ماہر، ٹیکسٹائل صنعت اور اپٹما کے سابق چیئرمین بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔۔۔

سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے کپاس کے کاشتکار،پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے محکمہ زراعت کے سیکریٹریز شامل ہوں گے۔

وزارت قومی غذائی تحفظ کے سیکریٹری کمیٹی کے سیکریٹری کے طور پر کام کریں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے