شام کے سابق صدر بشارالاسد کے حامیوں اور شام کی موجودہ عبوری حکومت کے درمیان خونریز جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد 1300 سے تجاوز کر گئی۔۔
ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 830 سویلین شامل ہیں، ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتوں میں کون سے گروپ ملوث ہیں۔
حالیہ پرتشدد جھڑپوں کا مرکز شام کے ساحلی علاقے طرطوس اور لاذقیہ (لطاکیہ) ہیں، جہاں علوی کمیونٹی کی اکثریت رہتی ہے، انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والے اکثر شہریوں کا بظاہر تعلق اسی علوی کمیونٹی سے ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق لاذقیہ میں جھڑپوں کے بعد گزشتہ روز شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے قومی یکجہتی کا مطالبہ کرتے ہوئے جھڑپوں کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے تھی۔
دوسری جانب شہریوں کی ہلاکتوں پراقوام متحدہ، عرب لیگ اور امریکا کی جانب سے بھی مذمت کی گئی تھی۔
