کسانوں سےزرعی انکم ٹیکس اتنا ہی لیا جائے جتنا تاجر کارپوریٹ ٹیکس دیتے ہیں:آئی ایم ایف

صوبوں نے یکم جولائی سے زرعی انکم ٹیکس وصولی کیلئے اپنا اپنا پلان عالمی مالیاتی فنڈ کو پیش کر دیا۔

زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح کارپوریٹ سیکٹر کے مساوی کر دی گئی ،تمام صوبوں میں زرعی انکم ٹیکس کی شرح یکساں رکھی گئی ہے۔۔


آئی ایم ایف مشن اور حکومت کے درمیان پالیسی مذاکرات کا دوسرا دور،،،،صوبوں کی جانب سے زرعی انکم ٹیکس وصولی پلان آئی ایم ایف کو پیش ،،،،سالانہ 6 لاکھ روپے آمدن تک ٹیکس لاگو نہیں ہو گا ،،،،بجلی ٹیرف میں کمی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکسوں پر نظر ثانی ۔۔۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اہم اہداف پر بات چیت کی جا رہی ہے ،صوبوں نے آئی ایم ایف کو بتایاکہ زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی شرح کارپوریٹ سیکٹر کے مساوی کر دی گئی ہے

تمام صوبوں میں زرعی انکم ٹیکس کی شرح یکساں رکھی گئی ہے ،آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ لائیو اسٹاک سیکٹر سے مکمل ٹیکس لیا جائے ۔زرعی شعبہ میں سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ تک زرعی آمدن پر 15فیصد ٹیکس جبکہ 12لاکھ سے زائد آمدن پر 20فیصد ٹیکس نافذ ہو گا۔

12 لاکھ سے 16لاکھ روپے تک زرعی آمدن پر 90ہزار فکس ٹیکس بھی عائد ہوگا ۔ سالانہ 16 سے 32 لاکھ روپے آمدن پر 30فیصد زرعی ٹیکس جبکہ 1 ایک لاکھ 70 ہزار فکسڈ ٹیکس عائد ہوگا ۔ سالانہ 32لاکھ سے زائد آمدن پر 40فیصد ٹیکس جبکہ سالانہ 32 سے 56 لاکھ تک آمدنی پر 6لاکھ50ہزار روپے فکس ٹیکس لاگو ہوگا۔۔

سالانہ 56 لاکھ سے زائد آمدن پر 45فیصد ٹیکس وصول کیاجائے گا۔

بجلی ٹیرف میں کمی کے مجوزہ پلان پر آئی ایم ایف حکام نے سستی شمسی توانائی سے بجلی کے شعبے پر اثرات اور گردشی قرض کے خاتمے پر تفصیلات طلب کی ہیں۔رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی بحالی کیلئے ٹیکس میں کمی پر غور کیا جا رہا ہے

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے