حماس: جنگ بندی کا فیصلہ اب اسرائیل کے ہاتھ میں ہے

حماس نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے لیے ثالثی تجاویز کا خیرمقدم کرتی ہے، لیکن حتمی فیصلہ اب اسرائیل کے پاس ہے۔ گروپ نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے اس عمل میں تاخیر کر رہے ہیں۔

حماس کے ترجمان عبداللطیف القنوعہ نے کہا کہ اسرائیل نے بارہا معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور اس بارے میں ثالثوں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، حماس کی شرائط کا مقصد مستحکم جنگ بندی کو یقینی بنانا اور اسرائیل کو اپنے وعدوں کا پابند بنانا ہے۔

حماس کے ایک وفد نے حال ہی میں مصر کا دورہ کیا اور ثالثوں سے ملاقات میں جنگ بندی کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کیا۔ تاہم، گروپ نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے انسانی امداد معطل کرکے اور غزہ کی ناکہ بندی برقرار رکھ کر پہلے ہی معاہدے کی خلاف ورزی کر دی ہے۔

عالمی برادری سے اپیل

حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالے اور غزہ تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے