افغانستان میں خواتین حقوق کی پامالی پر افغانستان کی طالبان حکومت میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں۔ وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اعلیٰ قیادت کے فیصلوں پر اختلاف کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔
افغانستان میں طالبان حکومت نے نہ صرف لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل پابندی عائد کی ہوئی ہے بلکہ خواتین کے گھر سے باہر کام کرنے، بیوٹی پارلر چلانے اور دیگر سرگرمیوں کو مکمل بند کر دیا ہے۔
افغانستان کی طالبان حکومت کے اس فیصلے پر نہ صرف مقامی طور پر بلکہ عالمی سطح پر شدید تنقید کی گئی لیکن ہبت اللہ کی قیادت نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔
اب سراج الدین حقانی جو افغان حکومت میں وزیر داخلہ کی اہم ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے، حالیہ یو اے ای کے دورے کے فوری بعد مستعفی ہو گئے ہیں۔
اس سے قبل بھی کئی وزراء اپنے عہدوں سے علیحدہ ہو چکے ہیں۔
