حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اچانک جنگ بندی ختم کرکے اور غزہ پر شدید فضائی حملے دوبارہ شروع کرکے اسرائیلی یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے یرغمالیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے جاری سفارتی مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور ان کے تحفظ کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ حماس کے ترجمان نے کہا کہ گروپ مذاکرات کے لیے تیار تھا، لیکن اسرائیل کی جانب سے دوبارہ دشمنی شروع کرنے سے امن کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی ثالثوں کی اپیل
مصر اور قطر سمیت کئی بین الاقوامی ثالثوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دیں۔
