اسلام آباد : چیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون سے ترکیہ کے سفیر نذیر اوعلو نے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے مابین دوطرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
رانا محمد قاسم نون کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ یک جان دو قالب کی مانند ہے۔ ترکیہ پاکستان کا دکھ، سکھ کا ساتھی ہے۔ترکیہ اور پاکستان کے عوام ایک دوسرے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔پاکستان اور ترکیہ کے عوام مشترکہ مذہب، بھائی چارے، اخوت، ثقافت اور تاریخ کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
چیئرمین کشمیر کمیٹی کا کہنا تھا کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان امت مسلمہ کے بہترین لیڈر ہیں۔مسلم امہ کی نوجوان نسل رجب طیب اردوغان کی شخصیت کو پسند کرتے ہیں۔ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ ہر آزمائش کی گھڑی میں پورا اترے ہیں۔ترکیہ کی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کی غیر متزلزل حمایت قابل ستائش ہے۔مسئلہ کشمیر اور فلسطین کو حل کیے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
چیئرمین کشمیر کمیٹی رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں اسرائیلی فورسز کا غزہ پر جارحیت انتہائی قابل مذمت ہے۔تنازعات کے حل کیلئے مسلم امہ کو مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہو گا۔بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں۔
رانا قاسم نون کے مطابق بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کر کے کشمیری عوام کو انکی بنیادی شناخت سے محروم کیا ہے ۔اقوام عالم کو بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنے کے اقدام کا نوٹس لینا چاہیے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان علاقائی نہیں، بلکہ عالمی مسئلہ ہے ۔
چیئرمین کشمیر کمیٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ سمیت دیگر دوست ممالک کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اٹھانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان اور ترکیہ کو مسئلہ کشمیر سے متعلق بھارتی پروپیگنڈا اور مس انفارمیشن کو بے نقاب کرنے کیلئے اقدامات کرنا ہونگے۔ترکیہ نے مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنے کے بھارتی اقدام کی کھل کر مذمت کی ہے، ہم اس پر ترکیہ کے مشکور ہیں ۔
ترکیہ کے سفیر نذیر اوعلو نے چیئرمین کشمیر کمیٹی رانا محمد قاسم نون اور کشمیر کمیٹی کے دیگر ممبران کا ترکیہ سے متعلق تعریفی کلمات کو سراہا۔ اور کہا کہ ترکیہ پاکستان کو اپنا گھر تصور کرتا ہے۔ ترکیہ مسئلہ کشمیر سمیت دیگر ایشوز پر پاکستان کے موقف کی علاقائی اور عالمی فورمز پر بھرپور حمایت جاری رکھے گا ۔
ترکیہ کے سفیر کا کہنا تھا کہ ترکیہ مسئلہ کشمیر کو اپنا ذاتی مسئلہ تصور کرتا ہے۔ ترکیہ پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے۔ترکیہ کی جانب سے پاکستان بلخصوص مظفرآباد آزاد کشمیر میں قائم ترکیہ سکولز طلباء و طالبات کو جدید تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔
ترکیہ سفیر کا کہنا تھا کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ تعلیم، ثقافت، دفاع سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے ۔ترکیہ کو پاکستان کے ساتھ اپنے دوستانہ، برادرانہ تعلقات پر فخر ہے۔میٹنگ میں موجود اراکین کشمیر کمیٹی نے ترکیہ کے سفیر کے پاکستان کے ساتھ متفرق شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کو سراہا۔اراکین کشمیر کمیٹی نے مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر ترکیہ کی غیر متزلزل حمایت کی تعریف کی۔