توشہ خانہ ایکٹ بن گیا،وزیراعظم نہیں قوانین میں ترمیم وفاقی کابینہ کر سکتی ہے:سیکریٹری کابینہ ڈویژن

0

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ماضی میں توشہ خانہ قوانین میں وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر ہی ترامیم کی جاتی رہی ہیں۔۔ وزیر اعظم کے دورہ چین میں جانے والے وفد نے قیمتی تحائف کی جگہ ہانگ گانگ سے لائے نقلی تحائف جمع کروائے۔۔ کابینہ ڈویژن نے توشہ خانہ کا مکمل ریکارڈ فراہم نہیں کیا

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر کی زیر صدارت ہوا ۔۔اجلاس میں کابینہ ڈویژن کے مالی سال 24-2023 کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ توشہ خانہ قوانین میں متعدد مرتبہ وزیراعظم کیلئے بغیر کابینہ منظوری ترامیم کی گئیں۔۔ سیکرٹری کابینہ ڈویژن کامران علی افضل نے تسلیم کیا کہ ماضی میں تحائف میں کافی بےضابطگیاں ہوئی تاہم اب توشہ خانہ ایکٹ بنایا گیا ہے اور قوانین میں ترامیم وفاقی کابینہ سے کروائی گئی ہیں۔۔


وزیر اعظم کے پاس قوانین میں ترامیم کی صوابدید نہیں ہے پہلے تحفہ وصول کرنے والا اندازہ کردا اصل قیمت کا 30 فیصد دے کر تحفہ رکھ سکتا تھا اب اصل قیمت مکمل ادا کرنا ہو گا ۔۔کمیٹی نے توشہ خانہ پر تمام پیراز پر ڈی اے سی کی ہدایت کر دی

اجلاس پر نیپرا پرفارمنس آڈٹ پر غور کیا گیا جنید اکبر خان نے کہا کہ چیئرمین نیپرا کا موقف ہے کہ ایسا کرنے سے اتھارٹی کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو گی۔۔ سید نوید قمر نیپرا کا موقف درست نہیں ہے نیپرا کے فیصلوں پر نہیں کارکردگی پر بات کریں گے۔۔

آڈیٹر جنرل اجمل گوندل نے کہا کہ جتنا نقصان نیپرا نے ملک کو پہنچایا ہے کسی ادارے نے نہیں پہنچایا ۔۔ نیپرا نے پی اے سی اجلاس میں آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کروانے پر اتفاق کرنے کے بعد ہائی کورٹ سے اسٹے لے لیا۔۔ وزارت قانون نے نیپرا کے کیس کیلئے آڈیٹر جنرل کو وکیل نہیں دیا۔۔

وزارت قانون نے 1993 میں پرفارمنس آڈٹ کرنے کا آفس آڈر جاری کیا اب رائے بدلی جا رہی ہے۔۔ آڈیٹر جنرل نے خود وکیل کر کے مقدمہ کا سامنا کر رہا ہے۔۔

سیکرٹری قانون کا موقف تھا کہ نیپرا کا پرفارمنس آڈٹ نہیں ہو سکتا کیونکہ قانون میں صرف آڈٹ کا ذکر ہے ۔۔ ثناء اللہ مستی خیل نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو کوئی ادارہ آڈٹ کیلئے تیار نہیں ہو گا۔۔ نیپرا کے اخراجات اور فیصلوں کے اثرات کو پارلیمنٹ دیکھ سکتی ہے ۔۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ نیپرا کی کارکردگی سے ملک کی معیشت متاثر ہوتی ہے ۔۔ ملک کی معیشت کو جس طرح توانائی نے بیٹھایا ہے ایسا کبھی نہیں ہوا ۔۔ ہمارے پاس جتنی طاقت اور اختیارات ہیں ہمیں پرفارمنس آڈٹ کروانا چاہئے۔۔

ریاض فتیانہ نے کہا کہ ماضی میں پی اے سی نے تمام سرکاری اداروں کے آڈٹ اور پرفارمنس آڈٹ کا اختیار آڈیٹر جنرل کو دیا تھا پی اے سی کے فیصلے کو سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو اطلاق کیلئے بھیج دیا گیا تھا۔۔ پرفارمنس آڈٹ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کمیٹی نے عید کے بعد نیپرا کے پرفارمنس آڈٹ کی ہدایت کر دی۔۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.