یوکرین تنازع: امریکہ اور روس کے درمیان پیر کو سعودی عرب میں مذاکرات
امریکہ اور روس پیر کو سعودی عرب میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کریں گے، جس میں یوکرین میں جاری تنازع اور بحیرہ اسود میں میری ٹائم سیکیورٹی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مذاکرات کے ایجنڈے کی تفصیلات
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے تصدیق کی ہے کہ بات چیت میں بحیرہ اسود میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے اور یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر روسی حملوں میں 30 دن کی عارضی روک کو نافذ کرنے پر غور کیا جائے گا۔ اوشاکوف نے انکشاف کیا کہ اس حوالے سے انہوں نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز کے ساتھ تفصیلات کو حتمی شکل دی ہے۔
روسی وفد اور امریکی حکمت عملی
روس کی جانب سے مذاکرات میں فیڈریشن کونسل کی بین الاقوامی امور کمیٹی کے چیئرمین گریگوری کاراسین اور روسی سیکیورٹی ایجنسی ایف ایس بی کے مشیر سرگئی بیسیڈا شرکت کریں گے۔ یہ دونوں حکام یوکرین تنازع سے متعلق مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن نے تکنیکی مذاکرات کے آغاز پر اتفاق کیا ہے، جن کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا اور بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے۔
سعودی عرب میں مقام کی تبدیلی
ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات جدہ میں ہونی تھی، تاہم کریملن حکام نے اب تصدیق کی ہے کہ مذاکرات ریاض میں ہوں گے اور پیر کے روز منعقد کیے جائیں گے۔
علاقائی استحکام کے لیے اہم مذاکرات
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات یوکرین میں جنگ بندی کی کوششوں اور بحیرہ اسود میں سیکیورٹی کے حوالے سے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، روس کے یوکرین کے خلاف فوجی حملے اور اس کے مضمرات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔