فلسطینی تنظیم حماس نے تصدیق کی ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ اسرائیل نے یرغمالیوں کی رہائی کے دباؤ کے تحت اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکف نے گزشتہ ہفتے ایک "برج پلان” پیش کیا تھا، جس کا مقصد جنگ بندی کو اپریل تک توسیع دینا اور مذاکرات کے لیے مزید وقت فراہم کرنا ہے۔
جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں پر شدید بمباری کی، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ ادھر، حماس کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ امریکی تجاویز کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اپنے خدشات اور مطالبات کو مدنظر رکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق، مجوزہ جنگ بندی معاہدے کی کامیابی کا دار و مدار حماس اور اسرائیل کے درمیان یرغمالیوں کے معاملے پر کسی ممکنہ مفاہمت پر ہے۔ تاہم، اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ جب تک تمام یرغمالیوں کی رہائی نہیں ہو جاتی، فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں سفارتی حل پر زور دے رہی ہیں، لیکن اسرائیل اور حماس کے درمیان موجودہ اختلافات کے باعث جنگ بندی کے امکانات غیر یقینی دکھائی دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کی تجویز پر اتفاقِ رائے ہو جاتا ہے تو یہ ایک عارضی جنگ بندی کی راہ ہموار کر سکتا ہے، لیکن فریقین کی گہری تقسیم اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق، آئندہ چند دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس دوران اسرائیل کی جنگی پالیسی اور حماس کا سفارتی موقف جنگ بندی کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
