ترکی میں استنبول کے میئر اکرام امام اوغلو کی گرفتاری کے خلاف ملک بھر میں احتجاج شدت اختیار کر گیا، جس کے دوران ترک حکام نے کئی صحافیوں کو حراست میں لے لیا۔ترک میڈیا ورکرز یونین نے صحافیوں کی گرفتاری کو اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا۔
استنبول کے مئیر اکرام امام اوغلو کو بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جسے ان کے حامی سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں۔حکومتی اہلکاروں کا مؤقف ہے کہ عدلیہ آزادانہ فیصلے کر رہی ہے، لیکن ناقدین اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔
ملک بھر میں مظاہرے جاری، استنبول، انقرہ اور ازمیر میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے آزادی صحافت پر ترک حکومت کے کریک ڈاؤن پر تشویش ظاہر کی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری 2028 کے انتخابات سے پہلے اپوزیشن کو کمزور کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔
