پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے چینی بحران پر تین وفاقی سیکرٹریز کو کل طلب کر لیا

0

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے چینی کی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ پیش نہ کرنے پر تین وفاقی سیکرٹریز کو کل طلب کر لیا۔۔۔۔ سیکرٹری صنعت، تحفظ خوراک اور تجارت کو کل اجلاس میں پیش ہو کر وضاحت پیش کرنے کی ہدایت۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پی ڈبلیو ڈی کو کرپٹ ترین ادارہ قرار دے دیا قومی احتساب بیورو سے پی ڈبلیو ڈی کے زیر التوا کیسز کی تفصیلات طلب کر لی۔۔۔۔ پی اے سی نے نیب سے اپنے اخراجات اور وصولیوں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔۔۔۔

جنید اکبر خان کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں ہائوسنگ و تعمیرات کی آڈٹ رپورٹ 24-2023 کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین پی اے سی جنید اکبر نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے پی ڈبلیو ڈی کو بند کرنے کا فیصلہ کر کے انتہائی احسن اقدام اٹھایا، پی ڈبلیو ڈی کرپٹ ترین ادارہ ہے جس کے ہر افسر پر نیب کے کیسز ہیں۔ پی اے سی نے پی ڈبلیو ڈی کے صوبوں کو منتقل ہونے والے منصوبوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔

سیکرٹری ہاؤسنگ و تعمیرات شہزاد بنگش نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبوں کو منتقل ہونے والے منصوبوں کی فنڈنگ وفاقی حکومت ہی کرے گی منصوبوں پر عمل درآمد صوبائی حکومتیں کریں گی چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی کا کوئی ایک ایکسئین ایسا نہیں جس پر نیب کا کیس نہ بنا ہو خوشی ہے کہ اس کرپٹ ترین ادارے کو بند کر دیا گیا ہے

آڈیٹر جنرل نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی کے منصوبے صوبوں کو منتقل ہونے سے تاخیر اور لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے سیکرٹری ہاؤسنگ نے کہا کہ حالات دیگر وزارتوں اور اداروں میں بھی خراب ہیں لیکن پی ڈبلیو ڈی نظر زیادہ آتا ہے۔

پی ڈبلیو ڈی کا نظام چلانے کیلئے بطور سیکریٹری بہت دبائو برداشت کیا اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے سیکرٹری ہاؤسنگ سے استفسار کیا کہ وہ کون ہیں جو دباؤ ڈال رہے ہیں تو سیکرٹری بات گول کر گئے

سیکرٹری ہاؤسنگ نے بتایا کہ پی ڈبلیو ڈی کو تحلیل کرنے کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا، سروس قواعد اور ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ دینے سے متعلق ابھی چیزیں فائنل نہیں ہوئیں۔ وفاقی کابینہ نے یکم جولائی سے پی ڈبلیو ڈی کے کام روک دئیے تھے۔ 140 جاری سکیموں کو فنڈز سمیت صوبوں اور سی ڈی اے کے حوالے کردیا گیا ہے۔

پی ڈبلیو کی جانب سے مالی سال 23-2022 میں 952 اسکیموں پر 11.5 ارب روپے کی مشکوک ادائیگیوں کا انکشاف ہوا۔ آدٹ رپورٹ کے مطابق پی ڈبلیو ڈی نے لیب ٹیسٹ رپورٹس کے بغیر ہی ادائیگیاں کیں۔ کنٹریکٹرز کے پری آڈٹ نہ ہونے اور ناقص انٹرنل کنٹرولز کے باعث بے ضابطگیاں ہوئیں۔

پی اے سی نے پی ڈبلیو ڈی کے تمام آڈٹ اعتراضات کی انکوائری، ذمہ داروں کے تعین کیلئے دو ماہ کا وقت دے دیا۔ چیئرمین پی اے سی نے نیب حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نیب بتائے کہ پی ڈبلیو ڈی کے کتنے کیس ہیں اور اب تک ریکوری کتنی ہوئی۔ یہ بھی بتائیں کہ سالانہ حکومت پاکستان کا کتنا خرچہ نیب پر ہوتا ہے اور ریکوریاں کتنی ہوتی ہیں۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس کے دو گھروں کیلئے1 کروڑ 80 لاکھ کی لگثری اشیاء کی خریداری کا انکشاف ہوا۔ کمیٹی ارکان نے وزارت ہاؤسنگ سے استفسار کیا کہ ان دو مکانات میں کون رہائش پذیر ہے جس پر وزارت کے تمام مفسران نے خاموشی اختیار کر لی ڈی جی پی ڈبلیو ڈی نے کہا کہ مجھے اس بارے میں علم نہیں آڈٹ رپورٹ میں درج محکمانہ جواب کے مطابق یہ مکانات وفاقی سیکرٹریز کے زیر استعمال ہی

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.