امریکی ٹیرف کے خدشات پرجنوبی کوریا، چین اور جاپان کا تجارتی تعاون مضبوط کرنے کا فیصلہ

0

سیئول: مشرقی ایشیا کی تین بڑی معیشتوں – جنوبی کوریا، چین، اور جاپان – نے عالمی تجارتی چیلنجز کے تناظر میں آپسی تعاون کو مزید فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئے محصولات کے نفاذ کے خدشات بڑھ رہے ہیں، جو بالخصوص ایشیائی کار ساز صنعتوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

پانچ سال بعد ہونے والے اس اعلیٰ سطحی اقتصادی اجلاس میں تینوں ممالک کے وزرائے تجارت نے سہ فریقی آزاد تجارتی معاہدے (FTA) پر مذاکرات کو تیز کرنے اور بیرونی تجارتی خطرات سے نمٹنے کے لیے اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (RCEP) کو مزید تقویت دینے پر بھی زور دیا گیا، جو کہ خطے کے 15 ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے بنایا گیا ایک معاہدہ ہے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب امریکہ کی جانب سے درآمد شدہ گاڑیوں اور آٹو پارٹس پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ اگر ایسا ہوا تو جاپان اور جنوبی کوریا، جو کہ امریکی مارکیٹ میں گاڑیوں کے بڑے برآمد کنندگان ہیں، شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔

اجلاس کے بعد جنوبی کوریا کے وزیر تجارت Ahn Duk-geun نے کہا کہ "گلوبل تجارتی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر، ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم علاقائی تجارتی فریم ورک کو وسعت دیں اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط کریں۔”

تینوں ممالک نے مذاکرات جاری رکھنے اور آئندہ اجلاس جاپان میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا، جہاں مزید ٹھوس اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر یہ ممالک باہمی تجارتی تعلقات کو مؤثر انداز میں مستحکم کر لیتے ہیں تو نہ صرف انہیں امریکی تجارتی دباؤ سے نمٹنے میں مدد ملے گی بلکہ خطے میں ایک متوازن اقتصادی نظام بھی قائم کیا جا سکے گا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.