یمن کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں موجود امریکی طیارہ بردار جنگی جہاز USS Harry S. Truman پر میزائل اور ڈرون حملہ کیا ہے۔
یمن کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیی سریع نے جمعہ کے روز سرکاری بیان میں بتایا کہ یہ حملہ یمن کی بحریہ، میزائل یونٹ اور ڈرون فورس کی مشترکہ کارروائی کے تحت کیا گیا، جو امریکی مداخلت کے خلاف ایک "روک تھام” کی حکمت عملی کا حصہ تھا۔
یحیی سریع کے مطابق، "یہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکی جنگی بحری جہازوں پر یمنی فوج کا دوسرا حملہ ہے۔ دشمن نے یمن پر دوبارہ ہوائی حملوں کی تیاری کی تھی، جسے اس آپریشن کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب امریکا اور اس کے اتحادی بحیرہ احمر میں اپنی عسکری موجودگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔
بحیرہ احمر میں یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔ یمنی حوثی فورسز نے حالیہ مہینوں میں مغربی مفادات کو نشانہ بناتے ہوئے متعدد بحری و ہوائی حملے کیے ہیں، جس سے بین الاقوامی سمندری راستوں پر بھی اثر پڑا ہے۔
تاحال امریکا کی جانب سے اس حملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ماضی میں واشنگٹن نے بحیرہ احمر میں اپنی بحری قوت کو حوثی حملوں کے خلاف دفاع کے لیے تعینات کیا ہے۔
