جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے متفقہ فیصلے میں صدر یون سک یول کو عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ دسمبر 2024 میں مارشل لاء کے متنازع اعلان کے بعد سنایا گیا، جس نے ملک میں شدید سیاسی بحران کو جنم دیا تھا۔ عدالت کے مطابق یہ اقدام آئین اور جمہوری اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تھا۔
آٹھ رکنی بنچ نے اتفاق رائے سے فیصلہ سنایا جو فوری طور پر نافذ العمل ہے۔ اس کے تحت یون سک یول کی صدارت ختم ہو گئی ہے اور ملک میں 60 دنوں کے اندر نئے صدارتی انتخابات کرائے جائیں گے۔
فیصلے میں عدالت نے کہا کہ "مارشل لاء کا اعلان ایک ایسا غیر آئینی قدم تھا جس کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔ یہ اقدام عوامی اعتماد سے غداری کے مترادف ہے۔”
دسمبر 2024 میں، صدر یون نے رات گئے اچانک ملک بھر میں مارشل لاء نافذ کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ "سیکیورٹی خدشات” کے باعث یہ فیصلہ ضروری تھا، مگر پارلیمنٹ، عدلیہ اور عوامی حلقوں نے اس اقدام کو جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔
معزول صدر اب "بغاوت” کے سنگین الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، جو عمر قید تک کی سزا کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ "میں اپنے حامیوں کا شکر گزار ہوں۔ اگر میں عوام کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکا، تو میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔”
