وزارت خزانہ نے ششماہی قرضوں کی رپورٹ جاری کر دی مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملکی مجموعی قرضہ 74 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔۔ جولائی تا دسمبر 2024 مقامی قرضوں کا حجم 49 ہزار 883 ارب دوپے رہا اس دوران بیرونی قرضوں کا حجم 24 ہزار 130 ارب روپے رہا۔۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پرائمری بیلنس سرپلس ہونے سے قرضوں کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے
وزارت خزانہ نے جولائی 2024 سے دسمبر 2024 میں ملکی اور غیر ملکی قرضوں کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔۔ مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملکی مجموعی قرضہ 74 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔۔ جولائی سے دسمبر 2024 تک مقامی قرضوں کا حجم 49 ہزار 883 ارب دوپے رہا۔۔ اس دوران بیرونی قرضوں کا حجم 24 ہزار 130 ارب روپے رہا پہلی ششماہی میں حکومتی قرضوں کا حجم 67 ہزار ارب روپے زائد رہا۔۔
گذشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران مجموعی قرضوں میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا۔۔ اس دوران مقامی قرضوں میں 5 فیصد اضافہ ہوا وزارت خزانہ کے مطابق مقامی قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 67 فیصد پر پہنچ چکا ہے ۔۔ بیرونی قرضہ جی ڈی پی کا 33 فیصد ہے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں پرائمری سرپلس 2.8 ٹریلین روپے رہا
گذشتہ برس اسی عرصے میں پرائمری سرپلس 1.5 ٹریلین روپے تھا۔۔ جولائی سے دسمبر تک سود کی ادائیگیوں میں 18 فیصد اضافہ ہوا پہلی ششماہی میں سود کی ادائیگیوں پر 5.1 ٹریلین خرچ کیے گئے۔۔ گذشتہ برس اس عرصے میں سود کی ادائیگیوں پر 4.2 ٹریلین روپے خرچ کیے گئے تھے۔۔ دسمبر 2024 تک غیر ملکی قرضے 86 ارب 62 کروڑ ڈالرز سے تجاوز کر گئے۔۔ دسمبر 2024 تک حکومتی غیر ملکی قرضہ 78 ارب 12 کروڑ ڈالرز سے زائد ہے۔۔
