کراچی سے 16 ہزار سے زائد افغان شہریوں کی جبری واپسی کا عمل شروع ہو گیا۔۔ پولیس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت سے افغان سٹیزن شپ کارڈ ہولڈرز کو خصوصی کیمپوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے جہاں سے انہیں بارڈر کے ذریعے افغانستان بھیجا جائے گا۔۔
پولیس نے اب تک 150 سے زائد افغان مہاجرین کو گرفتار بھی کیا ہے۔۔
وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کا منصوبہ (آئی ایف آر پی) یکم نومبر 2023 سے جاری ہے۔۔ منصوبے کے پہلے مرحلے یعنی تمام غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کی تکمیل کے بعد اب وزیر داخلہ نے وزیرِ اعظم کی ہدایت سے سندھ حکومت کو آگاہ کیا کہ وہ تمام اے سی سی ہولڈرز کو ان کے آبائی ملک میں واپس بھیجیں۔
15 فروری سے 31 مارچ 2025 تک افغان شہریوں کی رضاکارانہ واپسی کی مدت ختم ہو چکی ہے اور اب یکم اپریل 2025 سے ’جبری وطن واپسی‘ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔
افغان شہریوں کی وطن واپسی کے لیے مرکزی کیمپ امین ہاؤس سلطان آباد، کیماڑی میں قائم کیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا نے بتایا کہ اب تک 162 اے سی سی ہولڈرز کو کیمپ میں لایا گیا، جبکہ ان میں سے کچھ کو پی او آر (رجسٹریشن کا ثبوت) ہونے پر چھوڑ دیا گیا۔
3 اپریل کو مختلف علاقوں سے کل 196 افغانوں کو کیمپ لایا گیا تھا جن میں سے 20 کو پی کیو آر رکھنے پر چھوڑ دیا گیا تھا، مزید کہا کہ اسی طرح 4 اپریل کو کل 90 افغانی کیمپ لائے گئے، جن میں سے 10 کو رہا کیا گیا، اس طرح کل 242 افغان باشندوں کو افغانستان واپسی کے لیے لایا گیا ہے۔
ڈی آئی جی جنوبی سید اسد رضا نے کہا کہ پولیس کی اسپیشل برانچ کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے مطابق کراچی میں مجموعی طور پر اے سی سی رکھنے والے افغانیوں کی تعداد 16 ہزار 138 ہے، جن کی تعداد مشرقی اور مغربی اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ضلع شرقی میں کل 11233، ضلع غربی میں 2792، کورنگی میں 910، ملیر میں 396، وسطی میں 406، کیماڑی میں 203، جنوبی میں 120 اور سٹی ڈسٹرکٹ میں 78 اے سی سی ہولڈرز تھے۔
