صدر ٹرمپ کی تجارتی جنگ نے امریکہ سمیت یورپ اور ایشیائی مارکیٹوں کو اجاڑ کر رکھ دیا۔۔ دو روز میں امریکہ کی وال اسٹریٹ جرنل کو 5000 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ کے تین بڑے انڈیسز میں غیر معمولی مندی ریکارڈ کی گئی۔۔
ڈاؤ جونز انڈیکس میں 20 فیصد کمی آئی۔۔ ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 7 فیصد گِر گیا۔۔ نسدق انڈیکس میں 10 فیصد گراوٹ آ چکی ہے۔۔
امریکہ کی اسٹاک مارکیٹ پانچ سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔۔
امریکہ کی کئی بڑی ٹیک کمپنیوں کے حصص زمین بوس ہو گئے۔۔صرف ایپل کو دو روز میں 300 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔۔
صدر ٹرمپ نے 2 اپریل کو دنیا کے 125 ممالک پر 10 سے 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔۔ امریکہ کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر چین سب سے زیادہ متاثر ہوا جس پر امریکی صدر نے ٹیکس 54 فیصد کر دیا ہے۔۔
جواب میں چین نے امریکی مصنوعات پر 34 فیصد ٹیکس لگا دیا۔۔
امریکی معیشت دانوں نے صدر ٹرمپ کے معاشی فیصلوں کو معیشت کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کساد بازاری کا امکان ظاہر کر دیا ہے۔۔