آئی ایم ایف کا دو ماہ میں پاکستان میں گورننس میں بہتری اور کرپشن کے خاتمے کیلئے دوسرا مشن۔۔۔ آئی ایم ایف ٹیم نے مختلف سرکاری محکموں کے سربراہوں سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔۔۔
آئی ایم ایف مشن 14 اپریل تک وفاقی وزارتوں، ریگولیٹری اتھارٹیز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی محکموں سے مذاکرات کرے گا۔۔۔آئی ایم ایف مشن 30 محکموں کے ساتھ کارکردگی بہتر بنانے کیلئے مذاکرات اور شرائط طے کرے گا۔۔
آئی ایم ایف حکام وزارت خزانہ، وزارت قانون، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر سے اہم ملاقاتیں کرے گا۔۔ معیاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے منصوبہ بندی کمیشن اور شفاف نجکاری کیلئے نجکاری کمیشن سے مذاکرات کئے جائیں گے۔۔
آڈیٹر جنرل، نیب، ایف آئی اے، اوگرا، نیپرا اور پی ٹی اے حکام کی ملاقاتیں بھی آئی ایم ایف وفد کے ساتھ طے کی جا رہی ہیں۔۔
ملکی تاریخ میں پہلی بار آئی ایم ایف حکام صوبوں میں کرپشن کے خاتمے کیلئے مذاکرات کریں گے۔۔۔۔آئی ایم ایف حکام صوبائی انسداد کرپشن محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔۔
آئی ایم ایف مشن بینکنگ، سیمنٹ، کنسٹریکشن، اسٹیل اور چینی کے شعبے میں مسابقت کا جائزہ لے گا۔۔ کاروباری مقدمات میں عدالتی طریقہ کار، بینکنگ کورٹس اور احتساب عدالتوں کے نظام کا جائزہ لیا جائے گا۔۔۔۔ان شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے شرائط، ریگولیٹری اتھارٹیز اور قانونی کارروائی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔۔