غزہ کے جنوبی شہر خان یونس میں پیر کی صبح اسرائیلی فضائی حملے میں صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو صحافی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ حملہ النصر ہسپتال کے قریب فلسطین ٹوڈے نیوز ایجنسی کے ایک خیمے پر کیا گیا، جہاں صحافی جنگ کی رپورٹنگ کے دوران قیام پذیر تھے۔
📸 شہداء اور زخمیوں کی تفصیل:
- شہداء:
- ہلمی الفقاوی
- یوسف الخزندر
- شدید زخمی:
- احمد منصور – حملے کے بعد ملبے تلے پھنسے اور جلتے ہوئے فلمائے گئے، حالت تشویشناک
- دیگر زخمی صحافی:
- حسن عسلیح
- احمد الآغا
- محمود عواد
- محمد فائیق
- عبداللہ العطار
- ماجد قدیح
زخمیوں کو فوری طور پر مقامی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
عالمی مذمت اور ردعمل:
غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے "آزادی صحافت پر حملہ” قرار دیا۔ بیان میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور فیڈریشن آف عرب جرنلسٹس سے فوری مذمتی بیانات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ "اسرائیل اور اس کے اتحادی صحافیوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں، ان کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے۔”
اعداد و شمار:
- اکتوبر 2023 سے اب تک 210 سے زائد صحافی غزہ میں شہید ہو چکے ہیں
- 2024 عالمی سطح پر صحافیوں کے لیے تاریخ کا سب سے خطرناک سال رہا
- کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) کے مطابق: “2024 میں دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے 70 فیصد صحافی غزہ میں اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنے”
