امریکہ نے چین پر 50 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر اضافی 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد چین پر امریکی ٹیرف کی شرح 104 فیصد پر پہنچ جائے گی۔۔

 وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ کا کہنا ہے کہ 9 اپریل کا آغاز ہوتے ہی چین پر اضافی محصولات کے ساتھ مجموعی طور پر 104 فیصد محصولات نافذ العمل ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ  امریکی محصولات پر بات چیت کے لیے 70 ممالک نے امریکا سے رابطہ کرلیا ہے۔ 

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ تجارتی بات چیت میں غیرملکی امداد اور ان ممالک میں امریکی فوج کی موجودگی پر بات کریں گے، معاہدہ اسی صورت میں ہوگا جس میں امریکی ملازمین کا مفاد ہوگا اور جس سے تجارتی خسارہ کم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جن ممالک سے بات چیت ہوتی جائے گی اور جوابی محصولات نافذالعمل ہوتے جائیں گے، ٹرمپ نے اپنی تجارتی ٹیم کو تجارتی معاہدے تیار کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران جوہری معاہدہ کرنے کی طرف جا رہا ہے اور ہفتے کو ایران سے ہونے والے مذاکرات براہ راست ہوں گے۔

خیال رہے کہ چین نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مزید 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی پر سخت ردعمل دیا ہے۔

ترجمان چینی وزارت تجارت نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا اپنی ضد پر قائم رہا تو چین اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم طریقے سے جوابی اقدامات کرے گا اور آخر تک لڑے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے