پاکستان کی فلسطینی امن کانفرنس کی حمایت: جنگ بندی، انسانی امداد اور دو ریاستی حل پر زور
پاکستان نے جون 2025 میں مجوزہ فلسطین امن کانفرنس کے انعقاد پر مکمل حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اسے امن، انصاف اور امید کی بحالی کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے پریس بریفنگ میں کہا کہ کانفرنس کی کامیابی کے لیے فوری جنگ بندی، غزہ کی ناکہ بندی کا خاتمہ، اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی ناگزیر ہے.
ترجمان نے فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والی اس کانفرنس کی تیاریوں کو سراہا۔انہوں نے خبردار کیا کہ عام شہریوں اور انسانی کارکنوں کو تحفظ دیا جائے,فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے یا زمینوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کیا جانا چاہیے.
اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے خان نے 15 فلسطینی ایمرجنسی ورکرز کی شہادت کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
ترجمان شفقت علی خان نے سری نگر کی جامع مسجد اور عید گاہ میں نماز عید کی ادائیگی پر پابندی کو مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا۔بھارت کے ان اقدامات کو کشمیریوں کے مذہبی حقوق کی منظم خلاف ورزی کہا گیا۔
ترجمان شفقت علی خان نے وزیراعظم شہباز شریف کے بیلاروس کے سرکاری دورے پر روشنی ڈالی، جس کا مقصد:
دفاعی، تجارتی اور تکنیکی شعبوں میں تعاون,کئی معاہدوں پر دستخط,مشرقی یورپ میں اسٹریٹجک روابط کا فروغ
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی علاقائی و عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں,سیکرٹری خارجہ کی اردن میں سیاسی مشاورت,پاکستان-اردن دوطرفہ تعلقات، فلسطین اور جنوبی ایشیا کی صورت حال پر تبادلہ خیال
تجارت و تعلیم: واشنگٹن سے تعلقات پر اثرات
امریکہ کی جانب سے محصولات کے نفاذ کے معاملے پر پاکستان نے مشترکہ حل کی ضرورت پر زور دیا۔گلوبل یو جی آر اے ڈی اسکالرشپ پروگرام کے خاتمے پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جس نے دو دہائیوں میں ہزاروں پاکستانی طلبہ کو امریکی جامعات میں تعلیم کے مواقع فراہم کیے
ترجمان شفقت علی خان نے بتایا کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کے لیے قانونی فریم ورک کے مطابق، وقار سے عملدرآمد جاری ہے۔
بھارت میں وقف بل پر شدید ردعمل
- وقف (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری پر پاکستان نے سخت مذمت کرتے ہوئے اسے:
- مسلمانوں کو ان کی عبادات گاہوں اور مذہبی جائیدادوں سے محروم کرنے کی سازش
- بھارتی اقلیتوں کو مزید پسماندہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔