وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت سوشل امپیکٹ فنانسنگ فریم ورک (سماجی اثرات کی مالی اعانت) پر اہم اجلاس ہوا۔۔۔
اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن ، مائیکروفنانس اداروں، فلاحی تنظیموں اور سوشل امپیکٹ پارٹنرز کے نمائندوں نے اجلاس میں شرکت کی۔
وزیر خزانہ نے سوشل امپیکٹ فنانسنگ فریم ورک کا مسودہ پیش کیا۔۔فریم ورک میں جدید مالیاتی ذرائع متعارف کرانے کی حکمتِ عملی شامل ہے۔
شرکاء نے فریم ورک کی ساخت، ترجیحی ستونوں، فنڈنگ میکانزم، خطرات سے بچاؤ کے طریقہ کار اور طرزِ حکمرانی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔۔۔
اجلاس میں فنڈنگ ذرائع، عملدرآمد کی حکمتِ عملی اور پرفارمنس بیسڈ آلات، امپیکٹ بانڈز اور گارنٹیز پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں فنڈنگ کو وسائل کے بجائے نتائج سے جوڑنے اور جوابدہی کیلئے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ایک مضبوط پالیسی فریم ورک، جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر مبنی ہو، ناگزیر ہے۔۔ غربت کےخاتمے، صحت و تندرستی، تعلیم و انسانی وسائل کی ترقی، آبادی کے استحکام، اور ماحولیاتی بہتری ترجیحی شعبہ جات ییں۔۔
اجلاس میں سوشل امپیکٹ فنانسنگ فریم ورک کے مسودے کو آئندہ ہفتے تک حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔۔۔
سوشل امپیکٹ فنڈ کی سرگرمیوں سے منسلک ٹاسک فورسز بھی تشکیل دی جائے گی۔۔۔