پاکستان نے بھارت کے ساتھ زمینی تجارت کے ساتھ ساتھ فضائی حدود بھی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے وفاقی وزرا کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے جارحیت کی تو اس کے خواب ملیا میٹ ہو جائیں گے۔
پریس کانفرنس میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ سمیت اٹارنی جنرل منصور علی خان بھی شریک تھے۔۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، بھارت کے ساتھ تجارت اور واہگہ بارڈر بند کی جارہی ہے، بھارت کے لیے پاکستانی ایئراسپیس بھی بند کردی گئی ہے، بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹے میں پاکستان چھوڑنا ہوگا۔
وزیرخارجہ اسحٰق ڈار نے وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں سیاسی و عسکری قیادت نے شرکت کی، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، بھارتی الزامات اور فیصلے غیرذمہ دارانہ ہیں، دفترخارجہ نے گزشتہ روز ہی پہلگام واقعے کی مذمت کردی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا یکطرفہ اقدام کسی بھی طور قبول نہیں، بھارت کے اقدام کے جواب میں شملہ معاہدے سمیت دیگر دوطرفہ معاہدوں پر نظرثانی کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی اجلاس میں بھارت کے اٹاری بارڈر کو بند کرنے کے جواب میں ہم بھی واہگہ بارڈر بند کررہے ہیں اور بھارت کے ساتھ ہر قسم کی تجارت بند کی جارہی ہے، اس کے علاوہ سارک ویزا ایگمشن اسکیم کے تحت جن بھارتیوں کو ویزے جاری ہوچکے ہیں انہیں منسوخ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سکھوں کےسوا بھارتی شہریوں کو 48 گھنٹے کے اندر واپس جانے کا کہاگیا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ نئی دہلی میں ہمارے سفارتی عملے کی تعداد کم کرکے 30 کی گئی، اس کے جواب میں ہم نے بھی اسلام آباد میں بھارتی سفارتی عملے کی تعداد کم کرکے 30 کردی ہے۔
اسحقٰ ڈار نے مزید کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے لیے پاکستانی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور پاکستان میں بھارتی بحریہ اور فضائیہ کے ایڈوائزرز
کو بھی ناپسندیدہ شخصیت قرار دے دیا گیا ہے۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ دفترخارجہ بھارتی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کو طلب کرے گا اور جو فیصلے ہوئے ہیں ، ان سے آج ہی ڈیمارش کے ذریعے انہیں آگاہ کردیا جائے گا۔
اسحٰق ڈار نے کہا کہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے میں اپنا بنگلہ دیش کو دو روزہ سرکاری دورہ ملتوی کررہا ہوں، تاکہ کسی بھی حالات میں ہم جواب دینے کے لیے تیار ہوں۔