پاکستان کی پہلگام حملے کی عالمی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش:وزیراعظم کا کاکول اکیڈمی میں خطاب

0

پاکستان نے پہلگام حملے میں عالمی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے تعاون کی پیشکش کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں خطاب کرتے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان فرنٹ لائن پر ہے۔ ایک ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے غیر جانبدارانہ عالمی تحقیقات کے لیے تیار ہیں لیکن بھارتی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کا پانی روکا گیا تو پوری قوت سے جواب دیں گے، پانی ہماری لائف لائن ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کسی کو بھی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے، پاکستان کی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 25 کروڑ پاکستانی عوام متحد اور اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھرے ہیں، پاکستان نے دہشتگردی کو ہمیشہ اور ہر شکل میں مسترد کیا ہے، اور اس کی مذمت کی ہے، پاکستان دنیا میں دہشتگردی سے متاثرہ سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے، امن ہماری خواہش ہے، اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے 90 ہزار شہری دہشتگردی میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، پاکستان کی معیشت نے اربوں ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے، دنیا میں دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک پاکستان ہے۔

تقریب میں وفاقی وزرا، غیر ملکی سفارتکاروں اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے دنیا بھر میں امن و سلامتی کا خواہاں ہے، اور اس کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا، اور یو این چارٹر پر عمل کرنے کی اپنی ذمہ داری نبھاتا رہے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان ہمارا پڑوسی اور برادر اسلامی ملک ہے، ہماری خواہش ہے کہ ان کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کی بنیاد پر تعلقات ہوں، لیکن بدقسمتی سے افغانستان کی سر زمین سے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار نے کابل کا دورہ کیا، اور باور کروایا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھے اور پر امن تعلقات چاہتا ہے، تاہم افغان سرزمین سے پاکستان میں حملے برداشت نہیں کیے جاسکتے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.