حکومت نے باہمی اتفاق کےبغیر دریائےسندھ سے نئی نہریں نکالنے کا فیصلہ واپس لےلیا

0

زیراعظم  شہباز  شریف کی زیر صدارت  مشترکہ مفادات کونسل کا اہم اجلاس۔۔ وزیراعظم نے چاروں صوبے کے باہمی اتفاق کے بغیر دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کا منصوبہ واپس لے لیا۔

وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کونسل آف کامن انٹرسٹ (مشترکہ مفادات کونسل) میں باہمی اتفاق کے بغیر نئی نہریں نہیں بنائی جائیں گی۔۔

صوبوں کے مابین اتفاق رائے سے پہلے اس معاملے پہ وفاقی حکومت مزید آگے نہیں بڑھے گی۔۔

کونسل اجلاس کے بعد جاری اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت تمام صوبائی حکومتوں سے رابطے میں ہے تاکہ پاکستان بھر میں زرعی پالیسی اور آبی وسائل کے انتظام کے لیے ایک طویل مدتی متفقہ روڈ میپ تیار کیا جا سکے۔۔

تمام صوبوں کے پانی کے حقوق 1991 کے پانی کے معاہدے اور 2018 کی قومی آبی پالیسی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے اتفاق رائے سے محفوظ کیے گئے ہیں۔۔

تمام صوبوں کے خدشات کو دور کرنے اور پاکستان کی غذائی اور ماحولیاتی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔۔

اعلامئے میں کہا گیا ہے کمیٹی میں وفاق اور تمام صوبوں کی نمائندگی شامل ہو گی۔۔

یہ کمیٹی پاکستان کی طویل مدتی زرعی ضروریات اور تمام صوبوں کے پانی کے استعمال سے متعلق تجاویز دے گی، اور ان دونوں متفقہ دستاویزات کی روشنی میں کام کرے گی۔۔

پانی ایک نہایت قیمتی وسیلہ ہے اور آئین بنانے والوں نے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ لازم قرار دیا کہ تمام آبی تنازعات کو باہمی افہام و تفہیم سے خوش اسلوبی سے حل کیا جائے۔۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کسی بھی صوبے کے خدشات کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے مابین مکمل جانچ پڑتال کے ذریعے دور کیا جائے۔۔

اعلامئے کے مطابق کونسل نے فیصلہ کیا کہ 7 فروری 2024 کو نئی نہروں کی تعمیر کے لیے دی گئی عبوری ECNEC منظوری اور 17 جنوری 2024 کو منعقدہ اجلاس میں جاری کردہ ارسا کا پانی دستیابی سرٹیفکیٹ واپس کر دیا جائے۔۔

منصوبہ بندی ڈویژن اور ارسا کو ہدایت کی جاتی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ قومی یکجہتی کے مفاد میں اور کسی بھی خدشے کو دور کرنے کے لیے باہمی اتفاق رائے تک پہنچا جا سکے۔۔

کونسل کا یہ 52 واں اجلاس تھا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.