حملہ کہاں ہو گا یہ بھارت کا انتخاب ہو گا آگےاس کا نتیجہ کیا ہو گا یہ پاکستان طے کرے گا،پاک فوج

0

پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے حملہ کہاں کرنا ہے اس کا انتخاب بھارت کرے گا آگے اس کے نتائج پاکستان طے کرے گا۔

اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اس واقعے کے حقائق پر جائے گا الزامات پر نہیں، اگر الزام یہ ہے کہ پاکستانی سرزمین سے کسی نام نہاد دہشت گردوں نے یہ واقعہ انجام دیا تو آپ کو یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ پہلگام کسی بھی پاکستانی قصبے سے 200 کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جائے وقوع سے کسی کو بھی پولیس اسٹیشن تک پہنچنے کے لیے آدھا گھنٹہ درکار ہوگا، تو ایف آئی آر کے مطابق یہ کیسے ممکن ہے کہ 10 منٹ میں پولیس وہاں پہنچ بھی گئی اور پھر واپس جاکر ایف آئی آر بھی درج کرلی گئی، اس سے ظاہر ہوتا ہے وہ پہلے ہی اس کی تیاری کرچکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی انٹیلی جنس کے پاس اس واقعے کی خبر نہیں تھی لیکن جب واقعہ ہوگیا تو پھر 10 منٹ کے اندر ہی انہیں اتنی انٹیلی جنس مل گئی کہ انہوں نے کہہ دیا کہ ہینڈلر سرحد پار سے آئے تھے جب کہ مستقل یہ بیانیہ بنایا جارہا ہے کہ دہشت گردی کی یہ کارروائی مذہب کی بنیاد پر کی گئی، اور مسلمانوں کو چھوڑ کر ہندوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ ہی دیر بعد یہ بیانیہ بنانا شروع کردیا گیا کہ یہ مسلم دہشت گرد تھے جنہوں نے سیاحوں کو قتل کیا جب کہ ہمارا موقف ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں تھا، نہ تو مسلم دہشتگرد ہوتے ہیں، نہ ہی عیسائی اور نہ ہی ہندو دہشت گرد ہوتے ہیں، کیونکہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

ترجمان پاک فوج نے پہلگام واقعے میں شہید ہونے والے مسلم شخص کے بھائی کا ویڈیو کلپ شرکا کو دکھایا جس میں شہید کا بھائی کہہ رہا ہے کہ اس واقعے میں میرا بھائی بھی شہید ہوا جو مسلمان ہے، تو یہ بات غلط ہے کہ صرف ہندوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال کیا کہ بھارت کی جابن سے یہ خود ساختہ بیانیہ کیوں بنایا جارہا ہے؟ وزیراعظم نے بھی بھارتی بیانیے پر سوال اٹھایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے چند منٹ بعد ہی بھارتی ایجنسیوں سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس واقعے کا الزام پاکستان پر لگانا شروع کردیا گیا اور پھر کچھ ہی دیر میں الیکٹرونک میڈیا نے بھی پاکستان کو اس واقعے کے مورد الزام ٹھہرانا شروع کردیا لیکن اب تک اس الزام کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جن سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پروپیگنڈا شروع ہوا وہ ’ دہشتگردی کے کاروبار ’ میں بہت پہلے سے ہیں، اسی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے 4 نومبر 2023 کو میانوالی میں دہشتگردی کی کارروائی سے ایک روز قبل پوسٹ کی گئی ’کل بڑا دن ہے‘ اور اگلے دن کارروائی کے بعد ٹویٹ کیا گیا ’ویلکم میانوالی‘ اور پھر ہم نے فتنہ الخوارج کی دہشت گردانہ کارروائی دیکھی۔

ان کا کہنا تھا کہ 6 اکتوبر 2024 کو کراچی میں چینی شہریوں پر حملے سے قبل اسی ہینڈل سے ٹویٹ کیا جاتا ہے کہ اگلے چند گھنٹوں میں کچھ بڑا ہونے والا ہے اور پھر یہی سے اعلان کیا جاتا ہے ’کراچی میں بڑا دھماکا‘۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ یہاں دنیا کے یہ سمجھنے کے لیے اشارہ موجود ہے کہ سوشل میڈیا پر کیسے کوریو گرافی کی جارہی ہے کہ ہم کب اور کہاں کچھ کرنے والے ہیں اور پھر چند لمحوں پر الیکٹرانک میڈیا پر بھی خبریں چلنا شروع ہوجاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے سلسلے میں بھی یہی کچھ ہوا، جعفر ایکسپریس کے واقعے پر بھی اس اکاؤنٹ سے کہا گیا کہ ’ آج اور کل پر اپنی نظریں پاکستان پر رکھیں’ اور پھر اس کے بعد جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کو سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.