سینیٹ میں بھارتی جارحیت کے خلاف مسلح افواج کی کارروائی پر قرارداد متفقہ طور پر منظور

0

سینیٹ نے بھارتی جارحیت کے خلاف مسلح افواج کی کارروائی پر قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ ہم نے کسی بھی ملک کو جنگ بندی کے لئے نہیں کہا۔پہلا فون امریکی وزیر خارجہ نے کیا جبکہ سعودی ہم منصب نے اس کے بعد کال کی۔۔

پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کے 14 مئی کو ہاٹ لائن پر ہونے والے رابطے میں 18 مئی تک سیز فائر کی بات کی گئی ہے ۔

سینیٹ میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کامیاب آپریشن مرصوص میں افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرار داد ایوان میں پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔۔

قرارداد میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ شہداء کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں ہوں گی،

بھارت کے غیر انسانی حملوں کی شدید مذمت کی گئی جس میں خواتین، بچوں اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔ قرارداد میں غمزدہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا ۔کہا گیا کہ قومی سانحے پر پوری قوم متحد ہے۔

برادر ممالک کی اصولی حمایت پر پاکستان نے شکریہ ادا کیا۔ پاکستان کا امن و استحکام کے لیے پرعزم مؤقف۔ قرارداد میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر مذاکرات سے حل کیاجائے۔عالمی برادری سے کشمیر پر فعال سفارت کاری جاری رکھنے کی اپیل کی گئی۔۔

کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ پاکستان کے آبی حقوق ناقابل تنسیخ ہیں۔ یہ کہ بھارتی آبی جارحیت جنگی اقدام تصور ہو گا۔۔

متن میں کہا گیا کہ ایوان اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ قوم کو تزویراتی فتح عطا ہوئی،

آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ قومی وقار کی علامت قرار دیا گیا۔ پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور دفاعی کامیابیوں کو سراہتے ہیں۔۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ بری فوج، ایئر فورس اور نیوی نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا اور یہ آپریشن پختگی سے کیا گیا۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہم امن چاہتے ہیں مگر عزت کے ساتھ پاکستان نے دنیا کو بتایا کہ ہم پہل نہیں کرتے لیکن ہر حملے کا بھرپور جواب دیں گے۔

حکومت پاکستان نے بھارتی پروپیگنڈے کے برخلاف تمام حقائق شفاف انداز میں دنیا کے سامنے رکھے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے کسی ملک سے درخواست نہیں کی کہ بھارت کو روکیں، خود اپنا مؤقف منوایا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی قیادت میں 100 سے زائد سفیروں کو بریفنگ دی گئی۔۔پاکستان کا مؤقف واضح انداز میں پیش کیا گیا۔دنیا کے بڑے دارالحکومتوں میں بھارتی جھوٹے بیانیے کو مسترد کر دیا گیا۔

پاکستان نے بغیر تاخیر کے تمام ڈیٹا، شواہد اور تفصیلات عالمی برادری سے شیئر کیا گیا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے پاکستانی قیادت سے رابطہ کیا، آپریشن فیز ون کی پیش رفت سے آگاہی لی۔

9 مارچ کی رات بھارت کے 80 ڈرون حملوں کا مؤثر جواب دیا گیا، دشمن کا بیانیہ خاک میں ملا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور دیگر ممالک کو بھارتی جھوٹ کا علم ہو چکا ہے۔پاکستان کی شفافیت کو سراہا گیا۔بھارت کی جھوٹ پر مبنی جنگ بندی کی درخواست بے نقاب، خود وقت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے G20 ممالک اور اقوامِ متحدہ کے اہم اراکین کو فوری طور پر بریف کیا۔چھ اور سات مئی کی درمیانی رات دنیا نے دیکھا کہ پہل پاکستان نے نہیں کی ،،،

چین سمیت کئی ممالک نے پاکستان کی پالیسی کو تسلیم کیا اور بھرپور سفارتی حمایت کا اعلان کیا۔۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ثابت کیا کہ اس کی پالیسیاں امن پر مبنی ہیں لیکن دفاع میں کوئی سمجھوتہ نہیں

انہوں نے کہا عالمی برادری نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے ہر قدم قانون، شفافیت اور دیانتداری سے اٹھایا۔۔ پاکستان نے بھارتی لابی کے نیو نام (نیو نارمل) کے بیانیے کو دفن کر دیا۔۔

انہوں نے ہاؤس کو یقین دلایا کہ اللہ کے فضل سے قوم متحد، مطمئن اور پُرعز ہے۔۔ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہےاور کشمیر میں بھارتی فوج نے وہ چوکیاں چھوڑ دیں جو 75سالوں سے ان کے پاس تھیں ۔

انہوں نے بتایا کہ 2023 سے بھارت کی کوشش ہے معائدے کو توڑنے کی لیکن ایسا نہیں کرسکا ۔انہوں نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں ترمیم نہیں کی جاسکتی۔۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.