غزہ: اسرائیلی حملے شدید، درجنوں شہید — ٹرمپ کا بھوک سے اموات کا اعتراف
اسرائیلی بمباری کے باعث غزہ میں انسانی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے، گزشتہ 48 گھنٹوں میں خواتین اور بچوں سمیت 120 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی غزہ میں بھوک سے اموات کا اعتراف کرتے ہوئے صورتحال کی سنگینی پر روشنی ڈالی ہے۔
غزہ پر بمباری، اسپتال بھی نشانہ
غزہ کے جنوبی شہر خان یونس بدترین حملوں کی زد میں رہا۔
- یورپی اسپتال پر اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم 28 افراد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔
- حملے سے اسپتال کی عمارت شدید متاثر ہوئی، ممکنہ طور پر زیرِ زمین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔
- غزہ کا واحد کینسر علاج مرکز بھی غیر فعال ہو گیا ہے، جس سے علاقے کا طبی نظام مکمل مفلوج ہوتا جا رہا ہے۔
ٹرمپ کا بیان: "بہت سے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں”
ابوظہبی کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ”غزہ میں بہت سے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، اور ہم اس مسئلے پر توجہ دے رہے ہیں۔”
ان کا یہ بیان ایسے وقت پر آیا جب واشنگٹن کے پالیسی مؤقف میں ممکنہ تبدیلی کی قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں، اگرچہ انہوں نے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔
یو اے ای میں معاہدے، اسرائیل کا دورہ شامل نہیں
ٹرمپ نے اپنے مشرق وسطیٰ دورے میں اسرائیل کو شامل نہیں کیا، جبکہ متحدہ عرب امارات میں بڑے تجارتی معاہدے کیے جن میں امریکہ کے باہر سب سے بڑا AI کیمپس قائم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
بین الاقوامی ردعمل: "انسانیت کے خلاف جرم”
- ہیومن رائٹس واچ نے غزہ پر اسرائیل کی ناکہ بندی کو "انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیا ہے۔
- امدادی ادارے خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت کی وارننگ دے رہے ہیں۔
- انسانی حقوق کی تنظیموں اور یرغمالیوں کے خاندانوں کی جانب سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
- اسرائیل کا مؤقف ہے کہ تعطل کا شکار مذاکرات کی ذمہ داری حماس پر ہے۔
فوری جنگ بندی کا عالمی مطالبہ
غزہ میں انسانی جانوں کا ضیاع مسلسل بڑھ رہا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور بلا رکاوٹ امدادی رسائی کے مطالبات میں شدت آ گئی ہے۔ علاقائی استحکام کی بحالی اب عالمی سفارتکاری کا فوری چیلنج بن چکی ہے۔