غزہ میں اقوام متحدہ کے فوڈ ٹرکوں پر چھاپہ، انسانی امداد کا بحران شدت اختیار کر گیا

0

لوٹ مار، افرا تفری، اور فاقہ کشی کے خدشات کے باعث امدادی نظام ناکامی کے دہانے پر

غزہ میں اقوام متحدہ کے امدادی ٹرکوں پر چھاپوں اور لوٹ مار کے واقعات نے علاقے میں انسانی بحران کی سنگینی کو اجاگر کر دیا ہے، جہاں لاکھوں فلسطینی شدید بھوک، ناکہ بندی اور عدم تحفظ کے باعث زندہ رہنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق، رات گئے کم از کم 20 امدادی ٹرکوں کو — جو کہ ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کے تحت کام کر رہے تھے — مشتعل اور بھوکے شہریوں نے غزہ شہر کے وسط میں روک لیا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ جیسے ہی خوراک کی فراہمی کی افواہیں پھیلیں، لوگوں نے سڑکیں بلاک کر کے امدادی سامان ضبط کر لیا۔

ایک مقامی رہائشی، جس نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا”ابتدا میں چند ٹرک گزر گئے، لیکن جب بات پھیل گئی، تو لوگوں نے رکاوٹیں لگا کر قافلہ روک لیا اور جو ہاتھ لگا، لے گئے۔”

یہ واقعہ ایک روز قبل پیش آنے والے ایک اور پرتشدد واقعے کے تناظر میں ہوا، جب ہزاروں افراد نے ایک امدادی مرکز پر دھاوا بول دیا۔غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کی طرف سے امداد کی تقسیم جاری تھی کہ اسرائیلی فورسز نے ہجوم پر فائرنگ کی، جس میں اقوام متحدہ کے مطابق کم از کم 47 افراد زخمی ہو گئے۔

اسرائیل نے حال ہی میں ایک نیا امدادی فریم ورک متعارف کروایا ہے جس کا مقصد امداد کو براہ راست شہریوں تک پہنچانا ہے حماس کی مداخلت کے بغیر۔ تاہم، اقوام متحدہ اور دیگر انسانی تنظیموں نے اس نظام پر سخت اعتراض کیا ہے، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ”یہ انسانی امداد کو سیاسی مقاصد کے تابع کرتا ہے، اور غیر جانبداری کی خلاف ورزی کرتا ہے۔”کئی اہم این جی اوز نے اس اسکیم میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث امدادی نظام مزید کمزور ہو گیا ہے۔

اسرائیل نے منگل کے روز 95 امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی، جن کا انتظام اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ادارے کر رہے تھے۔ مگر مقامی صورتحال اب بھی نازک ہے — قافلے غیر محفوظ راستوں سے گزرنے پر مجبور ہیں جبکہ شہری بھوک کے باعث بے قابو ہوتے جا رہے ہیں۔

بڑھتے ہوئے واقعات نے اسرائیل کی فوجی ناکہ بندی کی پالیسی پر عالمی تنقید کو جنم دیا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ موجودہ صورتحال بڑے پیمانے پر فاقہ کشی ،سماجی انتشار اور امدادی نظام کے مکمل انہدام کا سبب بن سکتی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.