تاجکستان میں عالمی گلیشیر کانفرنس کا آغاز: پانی و موسمیاتی بحران پر عالمی برادری متحد
شہباز شریف سمیت عالمی رہنما شریک، دنیا کے نصف گلیشیئرز خطرے میں
عالمی ماحولیاتی خطرات اور پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں گلیشیرز کے تحفظ سے متعلق اعلیٰ سطحی عالمی کانفرنس کا آغاز ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ، WMO، یونیسکو اور دیگر عالمی اداروں کے تعاون سے منعقدہ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے سربراہانِ مملکت، سائنسدان، اور ماحولیاتی ماہرین شریک ہو رہے ہیں
تین روزہ کانفرنس کا مقصد گلوبل وارمنگ کی وجہ سے تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز، آبی ذخائر کے خطرے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں علاقائی و عالمی سطح پر پیدا ہونے والے بحران کا حل تلاش کرنا ہے۔
اہم نکات:
- گلیشیرز کے تحفظ اور موسمیاتی لچک کی حکمت عملیوں پر غور
- پانی کے پائیدار استعمال کے طریقے تجویز کرنا
- علاقائی ڈیٹا شیئرنگ کو مؤثر بنانا
- برفانی نگرانی کے عالمی نظام کو وسعت دینا
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کانفرنس میں شریک رہنماؤں میں شامل ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا”پاکستان ہمالیائی خطے میں گلیشیئرز سے متاثرہ ممالک میں سرِفہرست ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے علاقائی اشتراک اور بین الاقوامی تعاون وقت کی اہم ضرورت ہے۔”
پاکستان کو درپیش گلیشیئرز کے پگھلاؤ، سیلاب، پانی کی قلت اور زرعی چیلنجز جیسے مسائل پر بھی زور دیا گیا۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ موسمیاتی رجحانات برقرار رہے تو 2100 تک دنیا کے 50% گلیشیئرز ختم ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال پانی کی دستیابی میں بحران ,زرعی نظام پر دباؤ ,ماحولیاتی تنوع کو نقصان ,معاشی و معاشرتی عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔
کانفرنس کا اختتام ایک عالمی اتفاقِ رائے یعنی "دوشنبہ اعلامیہ” کی منظوری سے ہوگا، جو مستقبل میں گلیشیئر تحفظ کے لیے قانونی اور سائنسی اقدامات کی بنیاد رکھے گا۔
یہ کانفرنس دنیا بھر کے پالیسی سازوں کے لیے ایک کال ٹو ایکشن ہے کہ وہ گلیشیئر تحفظ، ماحولیاتی انصاف، اور پانی کی پائیداری کو فوری ترجیح دیں۔