ٹرمپ کا قطر کے ذریعے اسرائیل-ایران جنگ بندی کا اعلان

0

واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب ایک اہم سفارتی پیش رفت کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ایران اور اسرائیل نے 12 گھنٹے کی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں دو ہفتے سے زیادہ جاری کشیدگی عالمی سطح پر وسیع جنگ کے خدشات کو جنم دے چکی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا”اسرائیل اور ایران کے درمیان مکمل طور پر اتفاق کیا گیا ہے کہ 12 گھنٹے کے لیے مکمل اور مکمل جنگ بندی ہو گی… خدا اسرائیل پر رحم کرے، خدا ایران پر رحم کرے، خدا مشرق وسطیٰ پر رحم کرے، خدا امریکہ کو سلامت رکھے، اور خدا دنیا کو برکت دے!”

صدر نے اسے "12 روزہ جنگ” کے خاتمے سے تعبیر کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ جنگ بندی "ایک عارضی وقفے سے زیادہ” ہو سکتی ہے اگر دونوں فریق سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز اور واشنگٹن ذرائع کے مطابق، اس جنگ بندی کا سہرا قطر کی مداخلت کو دیا جا رہا ہے

قطر کے وزیر اعظم نے ایرانی حکام سے براہِ راست فون پر بات کی۔قطر کے امیر نے صدر ٹرمپ سے مشاورت کے بعد ایران کو معاہدے کے لیے رضامند کیا۔اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے ماضی کی طرح غیر جانبدار ثالث کی حیثیت سے ایک بار پھر اہمیت حاصل کی۔

جنگ بندی کی تفصیلات

پہلوتفصیل
🔄 آغازٹرمپ کے اعلان کے 6 گھنٹوں بعد ایران کی طرف سے شروع
⏱️ دورانیہابتدائی طور پر 12 گھنٹے کا باہمی تحمل
✅ حتمی فیصلہ24 گھنٹے کے جائزے کے بعد مکمل جنگ کے خاتمے کا امکان

ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی ایران کے اقدام سے شروع ہو گی اور اسرائیل اس کا "وقف وار” جواب دے گا۔ دونوں طرف سے فائر بندی کا مکمل احترام کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.