بیجنگ : نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندی کے بعد چین نے اب بھارت کو کھادوں کی ترسیل بھی روک دی ہے۔ خود انحصاری اور آتم نربھر کی دعویدار بھارت کی حقیقت، چینی کھاد کے بغیر زراعت مفلوج ہوگئی۔
بھارت کی قیمتی فصلیں چینی کھاد کے بغیر بے یار و مددگار ہوگئیں۔ 80 فیصد خصوصی کھاد چین کے رحم و کرم پر ہے۔
دی اکنامک ٹائمز آف انڈیا کے مطابق چین نے گزشتہ دو ماہ سےبھارت کو خصوصی کھاد کی ترسیل بند کر دی ہے۔ چین دیگر ممالک کو ان کھادوں کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے۔پھلوں و سبزیوں کی فصلوں کے لیےبھارت کا 80 فیصد خصوصی کھاد کا انحصار چین پر ہے۔
دی اکنامک ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خصوصی کھادیں فصلوں کی پیداوار ، مٹی کی صحت اور غذائی اجزاء کے استعمال کو بہتر بناتی ہیں ۔ چین بھارت کو براہِ راست پابندی کے بغیر مختلف طریقوں سے برآمدات روک رہا ہے۔ سرحدی کشیدگیوں اور بھارتی تجارتی پابندیوں کے ردعمل میں چین نے کھادوں کی برآمدات روکی ہیں۔
دی اکنامک ٹائمز آف انڈیا بھارت ،چین سے جون سے دسمبر تک 1.6 لاکھ ٹن خصوصی کھادیں درآمد کرتا ہے۔ بھارت کے پاس خصوصی کھادیں بنانے کی ٹیکنالوجی نہیں ہے۔ چین کی لگائی گئی پابندیوں نے بھارت کو غذائی عدم تحفظ کے دہانے پر لا کھڑا کردیا مودی سرکار کے آتم نربھر بھارت اور خود انحصاری کے نعرے محض سیاسی تماشا ہیں۔