محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی ہائی الرٹ: ملک بھر میں فوج تعینات
لاہور – محرم الحرام 1447ھ کے دوران ممکنہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر وفاقی وزارت داخلہ نے ملک بھر میں پاک فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سیکیورٹی اقدامات کو حتمی شکل دینے کے بعد باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ملک بھر میں صوبائی حکومتوں، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی درخواست پر کیا گیا تاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی اور دہشتگردی کے ممکنہ خدشات سے بروقت نمٹا جا سکے۔
وزارت داخلہ کے مطابق پاک فوج کی تعیناتی آئین پاکستان کے آرٹیکل 245 کے تحت کی جا رہی ہے جس کے مطابق فوج کو سول اداروں کی مدد کے لیے بلایا جا سکتا ہے۔ اس دوران:
- فوجی اہلکار مقامی پولیس اور رینجرز کے ساتھ مشترکہ گشت، ناکہ بندی، اور نگرانی میں حصہ لیں گے۔
- حساس مقامات پر سی سی ٹی وی نگرانی کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔
- ممکنہ طور پر مخصوص علاقوں میں انٹرنیٹ سروس کی عارضی بندش پر بھی غور کیا جا رہا ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں گزشتہ برسوں میں کشیدگی دیکھی گئی۔
وزارت داخلہ نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی، مشکوک شخص یا پیکٹ کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن پر دیں۔ سیکیورٹی ایجنسیاں ہمہ وقت الرٹ ہیں مگر عوامی تعاون کسی بھی سانحے کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق درج ذیل علاقوں میں خصوصی سیکیورٹی پلان نافذ کیا گیا ہے:
- کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، راولپنڈی، ڈی جی خان، ہنگو، پاراچنار، کوہاٹ، بہاولپور، سکھر، حیدرآباد، مظفر آباد، گلگت اور اسلام آباد
- ان علاقوں میں ماتمی جلوسوں اور مجالس کی کوریج کے لیے خصوصی کمانڈ اینڈ کنٹرول رومز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔
- سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد کی روک تھام کے لیے FIA، PTA اور دیگر سائبر سیکیورٹی ادارے متحرک ہو چکے ہیں۔
- حساس پوسٹس کی مانیٹرنگ اور نفرت انگیز مواد اپلوڈ کرنے والوں کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے گا۔
وفاقی و صوبائی سطح پر قائم بین المسالک ہم آہنگی کمیٹیاں ضلعی انتظامیہ، علما کرام اور مقامی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ محرم الحرام کے دوران امن، احترام اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔