بھارت کی سائنسی تحقیق میں ترقی صرف مودی کے دعووں تک محدود

0

نئی دہلی:بھارت میں سائنسی تحقیق اور ترقی کے حوالے سے حکومت مودی کے دعوے زمینی حقائق سے بہت دور ہیں۔ جدید تحقیق کے لیے مختص اسکیم "وِگیان دھارا” نہ صرف سیاسی ڈرامے کا حصہ بن چکی ہے بلکہ اس میں بجٹ کی شدید کمی اور مالی بحران نے محققین کو بدحالی کے دور سے دوچار کر دیا ہے۔ الجزیرہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق حکومت کی تحقیقاتی اسکیم INSPIRE کے تحت محققین نو ماہ تک وظائف کی ادائیگی سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے کئی محققین قرض لینے یا اپنی تحقیق چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحقیق کے لیے مختص بجٹ کا تقریباً 70 فیصد حصہ سود سے پاک قرضوں کی صورت میں نجی اداروں کو منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ INSPIRE اور وِگیان دھارا جیسی اسکیموں پر 22 فیصد بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے۔ اس کٹوتی کو "وِگیان دھارا” کے نام سے چھپانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ محققین کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور وہ اپنی بنیادی تحقیقی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

حکومتی فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث محققین و بنیادی ساز و سامان یہاں تک کہ لیپ ٹاپ بھی خریدنے سے قاصر ہیں۔ ملک کے معروف تعلیمی ادارے IITS اور IISERS کے محققین نے الجزیرہ کو بتایا کہ وہ بیوروکریسی کی بے حسی، مبہم جوابات اور حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے شدید پریشان ہیں۔ تمام محققین تین مہینے سے لے کر نو مہینے تک بغیر کسی مالی امداد کے گزارا کر رہے ہیں۔

وِگیان دھارا اسکیم کے بجٹ میں مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، جو 2016-17 میں 43.89 ارب روپے تھا، وہ اب 2025-26 میں کم ہو کر صرف 14.25 ارب روپے رہ گیا ہے۔ محققین نے بتایا کہ انہیں نہ تو وقت پر وظیفے مل رہے ہیں اور نہ ہی تحقیق کے لیے درکار دیگر مالی معاونت۔ ایک محقق نے الجزیرہ کو انٹرویو میں کہا کہ "وظیفہ نہ ملنے کے خوف سے سالانہ کانفرنس میں شرکت بھی نہیں کر سکا۔”

ستمبر 2024 سے اب تک کئی محققین کو کوئی مالی ادائیگی موصول نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ ایک فیکلٹی فیلو اور پی ایچ ڈی سکالر نے بتایا کہ انہوں نے بارہا متعلقہ محکموں کو کالز اور ای میلز کیں لیکن یا تو کوئی جواب نہیں ملا یا مبہم اور بعض اوقات بدتمیز جواب ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سرکاری بے حسی نے سائنسدانوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور کوئی سننے والا نہیں۔”

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.