طالبان کے دور میں افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ

0

واشنگٹن :افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک بار پھر یہ ملک دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ امریکی کانگریس کی ذیلی کمیٹی برائے جنوبی و وسطی ایشیا کے چیئرمین بل ہائزنگا نے اپنی رپورٹ میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بل ہائزنگا کے مطابق طالبان حکومت دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد میں ناکام رہی ہے، جس میں انہوں نے دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں نہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس کے برعکس، افغانستان میں داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنہ الخوارج اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے گروہ منظم ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے جنوبی اور وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔”

بل ہائزنگا نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی کہ 2024ء میں پاکستان کو اپنی تاریخ کے بدترین دہشتگردانہ حملوں کا سامنا رہا، جن میں معصوم شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ ان حملوں کے پیچھے براہ راست یا بالواسطہ طور پر افغان طالبان کی سہولت کاری یا غفلت کا عنصر شامل رہا۔

انہوں نے واضح کیا کہ طالبان کے دور حکومت میں افغانستان دہشتگردی کے پھیلاؤ کا مرکز بن چکا ہے، جس کا اثر صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے جنوبی اور وسطی ایشیا پر پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "طالبان کی دہشتگردی کے خلاف غیر سنجیدہ حکمت عملی خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔”

بل ہائزنگا نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ افغانستان میں جاری یہ صورتحال نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے-

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.