نئی دہلی:مودی حکومت نے ایک بار پھر "خلائی مشن” کے نام پر بھارتی عوام کو سیاسی تماشے میں الجھانے کی کوشش کی ہے، جس کا اصل مقصد سائنسی ترقی کے بجائے انتخابی مقاصد اور ہندوتوا بیانیے کو تقویت دینا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی فضائیہ کے گروپ کیپٹن شکلا کو خلا میں بھیجنے کے لیے 5 ارب روپے خرچ کیے گئے ۔ یہ نشست درحقیقت ایک کرائے کی سیٹ تھی، جسے بھارت نے ایک بین الاقوامی مشن میں خریدا۔
ذرائع کے مطابق، اس مشن میں بھارت کا نہ کوئی سائنسی کردار تھا، نہ ٹیکنالوجی کا استعمال، اور نہ ہی کوئی تجرباتی ڈیٹا یا خلا سے متعلق ان پٹ شامل تھا۔ اس کے برعکس، اسے مودی سرکار نے ایک "قومی کامیابی” کے طور پر پیش کیا، اور گودی میڈیا نے اسے سائنسی سنگ میل کا روپ دے دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس افسر کو خلا میں بھیجا گیا، وہ مودی کے قریبی اور ہندوتوا سے وفادار سمجھے جاتے ہیں، اور ان کا انتخاب مبینہ طور پر سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کیا گیا۔ مودی کی شکلا سے خلا میں کی گئی گفتگو کو "سائنسی مشن” سے زیادہ سیاسی اسکرپٹ” قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلائی ادارے اسرو کی جانب سے حقیقی سائنسی پیش رفت دکھانے کے بجائے اب نمائشی اقدامات اور میڈیا مینجمنٹ پر زور دیا جا رہا ہے، جو کہ بھارت کے سائنس دانوں اور انجینئرز کی محنت کی نفی کے مترادف ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پورا مشن دراصل ایک مہنگی سیاسی فلم ہے، جو ایک کرائے کی نشست پر سوار ہو کر، بھارت کو سپر پاور ظاہر کرنے کی ناکام کوشش ہے، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ بھارت خلا میں اب بھی دوسروں کی ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہا ہے۔
Sign in
Sign in
Recover your password.
A password will be e-mailed to you.