پاکستان نے سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی، فلسطین پر کھلی بحث کی صدارت اسحاق ڈار کریں گے
اسلام آباد/نیویارک — پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جولائی 2025 کے لیے صدارت سنبھال لی ہے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اپنی صدارت کے دوران فلسطین کے مسئلے پر سہ ماہی کھلی بحث کی صدارت کرے گا، جبکہ دو اعلیٰ سطحی مباحثوں کی قیادت بھی کرے گا۔
اسحاق ڈار نے بیان دیا کہ پاکستان یہ ذمے داری اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ساتھ ادا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا”ہماری صدارت ایسے وقت پر آئی ہے جب دنیا بھر میں شدید تنازعات اور انسانی بحران جنم لے چکے ہیں۔ سلامتی کونسل کو مؤثر سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے متحرک کرنا ہماری ترجیح ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ جولائی کے مہینے میں وہ خود فلسطین پر کھلی بحث کی صدارت کریں گے، جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری انسانی المیے پر عالمی موقف سامنے لایا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے جولائی میں سلامتی کونسل کے تحت ہونے والے دو اہم اجلاسوں کی بھی تفصیل دی
- پہلا اجلاس: عالمی سطح پر امن اور تنازعات کے پرامن حل پر مرکوز ہوگا
- دوسرا اجلاس: اقوام متحدہ اور او آئی سی کے باہمی تعاون پر مبنی ہوگا، جس میں مسلم امہ کے مسائل پر مشترکہ لائحہ عمل زیر غور آئے گا
انہوں نے کہا کہ”پاکستان تمام رکن ممالک سے قریبی شراکت داری کا خواہاں ہے، تاکہ اجتماعی اقدامات ممکن بنائے جا سکیں۔”
پاکستان 15 رکنی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے، جس کی یہ آٹھویں مدت ہے پاکستان نے جنوری 2025 میں اپنی موجودہ دو سالہ مدت کا آغاز کیا جو 2026 کے اختتام تک جاری رہے گی اس سے قبل پاکستان نے 2013 میں کونسل کی صدارت کی تھی
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا”پاکستان ایسے وقت میں صدارت سنبھال رہا ہے جب دنیا جغرافیائی کشیدگی، پیچیدہ سیاسی صورتحال اور امن و سلامتی کو لاحق سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ ہم اپنی صدارت میں شفافیت، شمولیت اور مؤثریت کو فروغ دیں گے۔”
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان سلامتی کونسل کے دیگر ارکان کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں کام کرے گا تاکہ فیصلے وقت پر اور عالمی توقعات کے مطابق ہوں۔