ٹرمپ نے برازیل پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا،برازیلی صدر کی تنقید، سفارتی کشیدگی میں اضافہ
نیویارک / برازیلیا — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برازیل کی برآمدات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے، جو کہ انہوں نے براہ راست برازیل کے سابق صدر جیر بولسونارو کے خلاف جاری عدالتی ٹرائل سے جوڑ دیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ عالمی سطح پر تجارتی جرمانوں کی نئی لہر متعارف کروا رہی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا "یہ ٹرائل نہیں، بلکہ چڑیلوں کی تلاش ہے جسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔”
ٹرمپ نے کہا کہ برازیل کی موجودہ حکومت بولسونارو کے خلاف سیاسی انتقام میں عدلیہ کو استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ برازیلی عدالتوں کی غیرجانبداری پر سوال اٹھاتے ہیں۔
یہ ٹیرف 1 اگست 2025 سے نافذ العمل ہوگابرازیلی مصنوعات پر اطلاق ہوگا جن میں زرعی اشیاء، آٹو پارٹس، صنعتی پرزے، اور ٹیکسٹائل شامل ہیں یہ ٹیرف ان دیگر محصولات سے الگ ہے جو اس ہفتے ٹرمپ نے فلپائن، سری لنکا، الجزائر اور مالڈووا پر عائد کیے.
ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام افراطِ زر کو بڑھا سکتا ہے عالمی سپلائی چین میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے تجارتی شراکت داروں میں عدم استحکام اور بے یقینی کا خدشہ بڑھ گیا ہے
برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا نے فوری طور پر اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا "یہ برازیل کی عدالتی خودمختاری پر حملہ ہے۔ بولسونارو کے خلاف عدالتی کاروائی ایک آزاد عمل ہے اور کسی بیرونی دباؤ کے تحت نہیں کی جا رہی۔”